اسلام آباد: سیاسی تجزیہ کاروں نے پاکستان کی طرف سے سکھ یاتریوں کے لیے فراہم کی جارہی سہولیات کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ یہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے سکھوں کے پانچویں گرو گرو ارجن دیو جی کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارتی سکھ یاتریوں کو 737 ویزے جاری کیے۔ ان میں سے 541 یاتریوں کو شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) نے سپانسر کیا۔یاتریوں نے مذہبی مقامات کے دوروں کے بارے میں1974 کے پاک بھارت پروٹوکول کے تحت سکھوں کے مقدس مقامات کا دورہ کیا جن میں گوردوارہ پنجہ صاحب، گوردوارہ ننکانہ صاحب اور گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور شامل ہیں۔یاتری 19 جون کو اپنی مذہبی تقریبات مکمل کرنے کے بعد واپس بھارت جائیں گے۔سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کاکہنا ہے کہ پاکستان خاص طور پر کرتار پور کوریڈور کے ذریعے سکھوں کی مذہبی سیاحت کو مسلسل سہولت فراہم کررہا ہے جس سے بھارت اور دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں سکھ عقیدت مند اپنے مقدس مقامات پر حاضری دینے کی طرف راغب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سکھ یاتریوں کی مہمان نوازی کررہا ہے جبکہ بھارت میں سکھوں پرمظالم ڈھائے جارہے ہیں۔تجزیہ کاروں نے بیرون ملک سکھ کارکنوں کو نشان ہ بنانے اور ماضی میں سکھ برادری کے خلاف تشدد کے واقعات کا حوالہ دیاجن میں 1984 میں سکھوں کا قتل عام اور پنجاب تنازعے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ مبصرین نے کہا کہ امن، انصاف اور علاقائی ہم آہنگی کے لیے مذہبی آزادی کا احترام اور اقلیتی برادریوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔







