بھارت : گجرات کی تاریخی جامع مسجد بھی ہندو انتہاپسندوں کے نشانے پر
گاندھی نگر: مودی کے بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک اور صدیوں پرانی مسجد کو نشانے پر رکھتے ہوئے گجرات کی تاریخی جامع مسجد میں قدیم مورتیاں موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اور تاریخی مساجد پر قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔، تازہ ترین تنازعہ بھروچ میں تقریباً 700 سال پرانی جامع مسجد سے متعلق ہے جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے تحت ایک محفوظ یادگار ہے جہاں مسلمان نسلوں سے نماز ادا کر رہے ہیں۔ایک غیر معروف تنظیم” شری چکردھر سوامی جنم استھل نیشنل ہیریٹیج پروٹیکشن کمیٹی “نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد کے احاطے میں مورتیاں اور دیگر مذہبی آثار موجود ہیں اور انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ویڈیو فوٹیج موجود ہے جس میں تاریخی مقام کے ایک محدود حصے میں تباہ شدہ مورتیوں اور نوادرات کو دکھایا گیا ہے۔جامع مسجد ٹرسٹ نے ان دعوو¿ں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے سوال اٹھایاہے کہ اے ایس آئی کے زیر حفاظت مقام کے محدود علاقوں تک کیسے رسائی حاصل کی گئی۔ ٹرسٹ کے نمائندوں نے کہا کہ ان حصوں میں فلم بندی کی کوئی اجازت نہیں دی کی گئی ہے اور مسجد تقریباً سات صدیوں سے عبادت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت بنی ہوئی ہے۔ ایک ٹرسٹی عبدالکامتھی نے بتایاکہ یہ مسجد سینکڑوں سالوں سے موجود ہے،ہمیں تشویش ہے کہ کچھ گروہ غیر ضروری تنازعہ پیدا کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرسٹ نے تنازعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی حکام اور اے ایس آئی سے سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا۔بھارت میں مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ آثار قدیمہ یا ورثے کے تحفظ سے بڑاہے۔ وہ اس طرح کے الزامات کو ہندو انتہاپسندوں کی حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں جس میں مساجد کے اندر پوشیدہ مندروں، مورتیوں یا آثار قدیمہ کے دعوﺅں کو مساجد پر قبضہ کرنے یا ان کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مسلمان ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طویل مہم کے بعد 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کا حوالہ دیتے ہیں۔ انہوں نے وارانسی میں گیانواپی مسجد، متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد اور مدھیہ پردیش میں کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق جاری تنازعات کا بھی حوالہ دیا۔ ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے بالآخر 2019 میں مسجد کی جگہ ہندو ﺅں کے حوالے کر دی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تنازعات سے مسلمانوں میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ہندوتوا قوتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تحت بھارت بھر کی صدیوں پرانی مساجد کو بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







