بھارت: ’ایف سی آر اے“ قوائد مزیدسخت، این جی او سوشل میڈیا اکاﺅنٹس ظاہر کرنیکی پابندی ہونگی

نئی دلی: بھارتی وزارت داخلہ نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ترمیمی قوائد 2026کانوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے غیر ملکی چندہ حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے قوائد مزید سخت کر دیے ہیں۔ این جی او ز کو اپنے تمام سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کی تفصیلات حکومت کو فراہم کرنا ہونگی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق این جی او ز کو صرف انہی سرگرمیوں تک محدود رہنا ہوگا جو انکی رجسٹریشن میں درج ہیں جبکہ سیاسی نوعیت کے مواد کی تشہیر یا ترویج کی اجازت نہیں ہوگی ۔ یہ نئے قوائد فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن رولز 2011میں ترمیم کیلئے جاری کیے گئے ہیں ۔ فارون کنٹری بیوشن ریگولیشن رولز پہلی مرتبہ 29اپریل 2011کو گزٹ میں شائع کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ان میں مختلف اوقات میں مجموعی طور پر نو مرتبہ ترمیم کی گئی۔ تارزہ ترین ترمیم فارون کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ 2010کے تحت دسویں ترمیم ہے ۔ ایف سی آر اے کے تحت رجسٹرڈ کسی بی این جی او کی رجسٹریشن پانچ برس کیلے موثر رہتی ہے۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق 2015سے اب تک 18ہزار سے زائد این جی اوز کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے ۔ رواں برس 22جون تک بھارت میں 14ہزار 456این جی اوز ایف سی آر اے کے تحت رجسٹرد اور فعال ہیں ۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رجسٹرد این جی او کو ہرسال تقریباً 22ہزار کروڑ روپے کی غیر ملکی امداد موصول ہوتی ہے۔






