بھارت

منافقت پر مبنی بھارت کی سفارتکاری بالآ خر اسکے گلے پڑ گئی

اسلام آباد: دھوکہ دہی اور منافقت پر مبنی بھارت کی سفارتکاری بالآخر اسکے گلے پڑ گئی اور عالمی سطح پر اسے شدید ہزیمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ نے بھارت کی دوہرے معیار کی سفارتکاری کے باعث اسکی برآمدات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کیے جو اس کے لیے ایک زبردست دھچکا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن بھارت کی بڑھتی ہوئی روسی تیل کی درآمد کو ماسکو کی جنگی مشین کے لیے ایندھن کا براہ راست ذریعہ سمجھتا ہے۔ بھارت روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل خرید رہا ہے اور پھر اسے بہتر کرنے کے بعدبیرون ملک فروخت کرکے کثیر منافع کمار رہا ہے ۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھارت کے اس طرز عمل کو ”جنگ سے منافع خوری“ قرار دیا۔
50فیصد محصولات امریکہ کو بھارت کی 87 بلین ڈالر کی برآمدات کے 55 فیصد سے زائد کو نشانہ بنائے گا اور اسکا اثر ٹیکسٹائل، انجینئرنگ کے سامان، دواسازی اور آئی ٹی ہارڈویئر جیسے اہم شعبوں پر پڑے گا۔ برآمد کنندگان نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے نہ صرف بھارتی محصولات میں کمی آئے گی بلکہ بنگلہ دیش، ویتنام اور چین جیسی حریف معیشتوں کو مسابقتی برتری بھی ملے گی، جس کی وجہ سے بھارت اپنی سب سے زیادہ منافع بخش برآمدی منڈی میں مستقل طور پر غلبہ کھو دے گا۔
اس کا فوری نتیجہ بھارتی کی مالیاتی منڈیوں میں نظر آیا۔ بھارتی روپیہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر 87.68 فی امریکی ڈالر پر گر گیا، جبکہ این ایس ای اور بی ایس ای بینچ مارک انڈیکس میں ہر ایک میں 1 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت کی واشنگٹن اور ماسکو دونوں کو ایک ساتھ قریب رکھنے کے لیے پالیسی غلط ثابت ہوئی ہے اور جسے بھارت اپنے لیے ”معاشی انتخاب” قرار دے رہا تھا اس نے ایک تزویراتی ردعمل کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے بارے میں عالمی تاثر تیزی سے بدل رہا ہے ۔اب اسے ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے بجائے ایک موقع پرست سمجھا جا رہا ہے ، بھارت کا دوغلا پن اس پر بھاری پڑا ہے ۔ بڑے پیمانے پر محصولات محض ایک معاشی سزا نہیں بلکہ بھارت کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن عالمی بحرانوں سے فائدہ اٹھانے کی اسکی کوششوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button