مضامین

ہندوتوا فاشزم اور نسل کشی کی دستک

غزہ کی طرز پر بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کی آوازیں بلند

ارشد میر

بھارت، جو طویل عرصے تک اپنی کثیر الثقافتی، جمہوریت اور سیکولر اقدار کے دعووں کے ساتھ دنیا کے سامنے خود کو ایک پرامن ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے آج اپنی تاریخ کے خطرناک اور تاریک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوفسطائیت اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم، چند شرپسند عناصر کی لفظی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ریاستی سرپرستی میں ایک منظم، مربوط اور اعلانیہ نسل کشی کے مطالبات کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس سنگین صورتحال کی تازہ ترین اور انتہائی بھیانک کڑی انتہا پسند ہندو پجاری یتی نرسنگھ آنند سرسوتی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دے کر بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی حمایت کی ہے۔ نرسنگھ آنند کا یہ استدلال اس فاشسٹ سوچ کا عکاس ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو درست تسلیم کر کے اسے بھارت میں دہرانے کا جواز بناتی ہے۔ اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں واقع داسنا دیوی مندر میں منعقدہ ایک ہندو پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اور ہندو انتہاء پسند رہنماء انیل یادو کے اس بیان کی اعلانیہ توثیق کی جس میں یادو نے بھارتی مسلمانوں کے ہولناک قتل عام کی دعوت دی تھی۔ نرسنگھ آنند نے قانون کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یادو کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو سب سے پہلے انھیں گرفتار کیا جائے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں قانون کا خوف مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور انتہا پسند عناصر خود کو مروجہ آئین اور عدالتی نظام سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔

یہ زہریلا ماحول کسی اچانک رونما ہونے والے واقعے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اس مجرمانہ اور فسطائی تاریخ کا تسلسل ہے جس کے پیچھے یتی نرسنگھ آنند جیسے کردار کھڑے ہیں۔ نرسنگھ آنند کوئی غیر معروف یا عام پجاری نہیں ہے بلکہ اس کی پوری زندگی نفرت، مذہبی و نسلی امتیاز اور تشدد کی ترویج سے بھری پڑی ہے۔ مختلف میڈیا اور دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ اس شخص نے ہندوؤں سے باقاعدہ اپیل کی کہ وہ بجرنگ دل جیسی روایتی تنظیموں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے مکمل خاتمے کے لیے داعش کی طرز پر ایک مسلح اور سخت گیر ہندو تنظیم قائم کریں۔ اس کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں نہ کوئی مسجد ہو اور نہ ہی کوئی مسلمان آباد رہے۔ اسی نظریے کے تحت اس نے پیغمبرِ اسلام ، محسن انسانیت نبی اکرم ﷺ کی شان میں شدید گستاخانہ اور اشتعال انگیز کلمات کہے جس سے پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہوئی تھی مگر اسکے خلاف کوئی عملی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس نے ہندو برادری کو یہ ترغیب دی کہ اب تلواروں اور ترشولوں کا زمانہ گزر چکا ہے اور انہیں اب مسلمانوں کے خلاف خودکار اور جدید ترین ہتھیار اٹھانے چاہئیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جنوری 2022 میں ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلانیہ مطالبہ کرنے پر جب عالمی دباؤ کے تحت اسے گرفتار کیا گیاتو مودی حکومت کی سرپرستی میں اسے چند ہی دنوں بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور اس نے جیل سے باہر آتے ہی دوبارہ اسی زہر افشانی کا آغاز کر دیا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بی جے پی حکومت ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے ایک سیاسی اور انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

اس خطرناک اور منظم مسلم کش مہم کو جب عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا بھر کے معتبر اداروں اور انسانی حقوق کے ماہرین کی پیش گوئیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ اس سلسلے میں "جنوسائڈ واچ” کے سربراہ ڈاکٹر گریگری اسٹنٹن کی تحقیقات اور انتباہات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں جنہوں نے کئی بار دنیا کو خبردار کیا ہے کہ بھارت اس وقت نسل کشی کے دس مراحل میں سے آٹھویں مرحلے یعنی "ستم رانی اور ظلم” (Persecution) پر پہنچ چکا ہے۔ ڈاکٹر اسٹنٹن کا ماننا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی اور فوری مداخلت نہ کی تو بھارت میں ہونے والا قتل عام 1994 میں روانڈا میں ہونے والی ہولناک نسل کشی سے بھی زیادہ مہیب، ہولناک اور وسیع پیمانے پر ہوگا اور اس خونی تباہی کی بنیادی چنگاری مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندرونی مسلم اکثریتی علاقوں سے اٹھے گی۔ اس سنگین تشویش کی تائید امریکی کانگریس کی معروف مسلم رکن الہان عمر نے بھی کی ہے جنہوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں تقریر کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف منظم اور ریاستی سطح پر نسل کشی کی تیاریاں آٹھویں مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ الہان عمر نے جون 2022 میں امریکی ایوان میں ایک تاریخی قرارداد بھی پیش کی جس میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو "خاص تشویش کا حامل ملک” قرار دیا جائے۔ انہوں نے اسی بنیاد پر امریکی کانگریس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ مظلوموں کی آواز کو معاشی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں یہ بنیادی اور فکری سوال اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ آخر بھارتی مسلمانوں نے ایسا کیا گناہ یا جرم کیا ہے جس کی سزا انہیں نسل کشی اور قتل عام کی دھمکیوں کی صورت میں دی جا رہی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ تقسیمِ ہند سے لے کر آج تک بھارتی مسلمانوں نے کبھی بھی ریاست کے خلاف کوئی منظم مسلح بغاوت تو کجا کوئی عام سی غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمی بھی نہیں کی بلکہ انہوں نے ہمیشہ بھارت کے آئین پر اعتماد کیا اور ملک کی تعمیر و ترقی، سائنس، آرٹ اور دفاع میں صفِ اول کا کردار ادا کیا۔ اگر بالفرض ان کی طرف سے کوئی بغاوت بھی ہو تو کیا بھارت کا سیکورٹی اور عدالتی نظام اس سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے جو ہندو انتہاء پسند تنظیمیں ہندؤں کے گھر وں میں جاکر ان کے ہاں تلواریں اور ترشول تقسیم کرکے مسلمانوں کے خلاف اکسائیں یہاں تک کہ داعش کی طرح بننے اور خود کار ہتھیار اٹھانے کا بھی کہیں ؟ لیکن ہندوتوا فاشزم کا مقصد قانون کی بالادستی قائم کرنا یا جرائم کا خاتمہ نہیں ہےبلکہ اس کا اصل ایجنڈا قانون کو بالائے طاق رکھ کر ہجوم کے ذریعے عدالتیں لگانا اور مسلمانوں کی معاشی، سماجی اور جسمانی بقا کو نیست و نابود کرنا ہے۔ اسی ایجنڈے کے تحت بی جے پی حکومت کے وزراء باقاعدہ بیانات دیتے ہیں کہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست سے بدل کر ایک کٹر "ہندو راشٹر” بنایا جائے گا اور "بھارت میں رہنا ہے تو رام رام کہنا ہوگا” جیسے نعروں کے ذریعے مسلمانوں سے ان کی مذہبی اور شہری آزادی چھیننے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

بھارتی مسلمانوں کی یہ نسل کشی صرف جسمانی قتل عام کے بیانات تک محدود نہیں ہےبلکہ ان کی ثقافتی، تعلیمی اور معاشی شناخت کو مٹانے کا عمل بھی انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں اس فاشزم نے بلڈوزر پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہےجس کے تحت محض چند دنوں کے اندر بھارت کی دو مختلف ریاستوں میں 24 مساجد اور مدارس کو مختلف حیلوں بہانوں سے منہدم کر دیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی شعار کو مٹایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، مسلمانوں کے روایتی تعلیمی نظام پر کاری ضرب لگانے کے لیے مدارس کو ملنے والے سرکاری فنڈز میں آدھے سے زیادہ کٹوتی کر دی گئی ہےاور بہار جیسی ریاستوں میں وزرائے تعلیم کی جانب سے غیر فعال ہونے کا بہانہ بنا کر مسلم تعلیمی اداروں کو مستقل طور پر بند کرنے کے واضح ارادے ظاہر کیے گئے۔ اس معاشی اور تعلیمی محاصرے کا واحد مقصد یہ ہے کہ مسلم نسل کو جدید اور دینی تعلیم سے محروم کر کے معاشرتی طور پر مفلوج کر دیا جائےتاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل ہی نہ رہیں۔

اس پورے بھیانک منظرنامے میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی سب سے بڑا المیہ ہےکیونکہ بھارت میں اس وقت تقریباً 25 کروڑ مسلمان اور کروڑوں عیسائی و دیگر اقلیتیں آباد ہیں جن کی مجموعی آبادی یورپ کے کئی بڑے ممالک کی مشترکہ آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اتنی بڑی انسانی آبادی کو ایک فاشسٹ، جنونی اور وحشیانہ نظریے کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا پوری انسانیت اور عالمی ضمیر کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اگر بھارت میں ہندوتوا کے ان نظریات اور نرسنگھ آنند جیسے ناسوروں کے نتیجے میں نسل کشی کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو اس کے اثرات صرف بھارت کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے ۔بلکہ اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کا پورا خطہ ہی نہیں ، دنیا متاثر ہوگی۔ ایک ایسا معاشی اور انسانی بحران جنم لے گا جس کے نتیجے میں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اور پناہ گزینوں کا مسئلہ پیدا ہوگا جس کا بوجھ سنبھالنا دنیا کے کسی بھی خطے کے بس میں نہیں ہوگا۔

یتی نرسنگھ آنند جیسے زہریلے کردار کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے کینسر کی حیثیت رکھتے ہیں اور بھارت جیسے کثیر المذاہب ملک میں ان کا کھلے عام گھومنا اس بات کی حتمی دلیل ہے کہ ڈاکٹر گریگری اسٹنٹن کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ فوری طور پر حرکت میں آئے اور بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی مبصر مشن مقرر کرے جبکہ امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی سفارشات اور الہان عمر جیسے رہنماؤں کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو فوری طور پر "خاص تشویش کا حامل ملک” قرار دے اور اس پر سخت اقتصادی و سفارتی پابندیاں عائد کرے کیونکہ اگر اب بھی اس بڑھتے ہوئے فاشسٹ طوفان کو نہ روکا گیا تو تاریخ انسانیت کے سب سے بڑے قتلِ عام کو کبھی فراموش نہیں کر پائے گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button