مضامین

10 مئی — معرکۂ حق

صرف پونے چار گھنٹے … اور

  • دنیا کا بیانیہ تبدیل ہوگیا تاریخ نے اپنا رخ بدل لیا

    مشتاق احمد بٹ

 

بعض اوقات تاریخ صدیوں میں نہیں بدلتی بلکہ چند لمحے پوری دنیا کی سوچ، قوموں کے اعتماد اور طاقت کے پیمانوں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ 10 مئی کے وہ پونے چار گھنٹے بھی ایسے ہی تھے۔ بظاہر یہ وقت کا ایک مختصر سا وقفہ تھا، مگر حقیقت میں یہی وہ فیصلہ کن ساعت تھی جس میں برسوں سے قائم بیانیے ٹوٹ کر بکھر گئے، تصورات اپنی بنیادیں کھو بیٹھے، اور حقیقت نے پوری قوت کے ساتھ خود کو منوا لیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک قوم نے پہلی مرتبہ خود کو دوسروں کی نگاہ سے نہیں بلکہ اپنی آنکھ سے دیکھا—اپنی اصل قامت میں، اپنے حقیقی وقار کے ساتھ۔ جب بھارت نے من گھڑت الزامات، روایتی جارحیت اور خطے میں اپنی بالادستی کے زعم کو بنیاد بنا کر پاکستان اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں پر میزائل حملے کیے تو اُس کا مقصد صرف عسکری دباؤ ڈالنا نہیں تھا، بلکہ وہ خوف، نفسیاتی برتری اور سیاسی دباؤ کے ذریعے پاکستان کو دفاعی پوزیشن پر لانا چاہتا تھا۔ بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید طاقت کے اس مظاہرے سے پاکستان مرعوب ہو جائے گا، عالمی دباؤ کے باعث خاموشی اختیار کرے گا، یا محدود ردِعمل پر اکتفا کرے گا۔ مگر اُس نے ایک حقیقت کو نظر انداز کر دیا تھا—قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ایمان، اتحاد، عزم اور خودداری سے مضبوط ہوتی ہیں۔

پاکستان نے ابتدا میں نہایت تحمل، ذمہ داری اور سفارتی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق دنیا کے سامنے رکھے، مگر جب جارحیت حد سے بڑھی تو پھر جواب بھی ایسا دیا گیا جس نے چند ہی لمحوں میں جنگ کا پورا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ جب فضا میں شاہین بلند ہوئے تو یہ صرف جہازوں کی پرواز نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ قوم کے عزم، غیرت اور خودداری کی پرواز تھی۔ اس اڑان میں صرف رفتار شامل نہیں تھی بلکہ وہ یقین شامل تھا جو خوف کو شکست دیتا ہے، وہ حوصلہ شامل تھا جو شکوک کے اندھیروں کو چیر دیتا ہے، اور وہ اعتماد شامل تھا جو ہر دباؤ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔

پاکستان کے بھرپور، منظم اور مؤثر جوابی حملوں نے نہ صرف دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت کیے بلکہ اُسے یہ احساس بھی دلا دیا کہ یہ وہ پاکستان نہیں جسے کمزور سمجھ کر دباؤ میں لایا جا سکے۔ پاکستانی شاہینوں کے جواب نے طاقت کے اُس غرور کو چکنا چور کر دیا جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھ بیٹھا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ صرف پونے چار گھنٹوں میں جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ وہ فریق جو مسلسل برتری کے دعوے کر رہا تھا، اُسے سیزفائر کی بات کرنا پڑی۔ یہ صرف عسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ ایک واضح اعلان تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن کو کمزوری نہیں بننے دے گا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ تحمل اُس کی پالیسی ہے، مگر دفاع اُس کی صلاحیت؛ اور جب اس صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے تو بڑے بڑے دعوے، منصوبے اور غرور لمحوں میں بکھر جاتے ہیں۔

ان لمحوں میں صرف ہتھیار نہیں بول رہے تھے بلکہ ایک قوم کی تاریخ بول رہی تھی، اس کا تشخص بول رہا تھا، اس کا مستقبل خود اپنے الفاظ میں لکھا جا رہا تھا۔ برسوں سے ایک سوچ مسلسل ہمارے گرد بُنی جا رہی تھی کہ پاکستان کمزور ہے، دباؤ برداشت نہیں کر سکتا، زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا، اور عالمی طاقتوں کی مرضی کے بغیر آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مگر ان پونے چار گھنٹوں نے اس پورے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک نفسیاتی انقلاب تھا۔ ایک ایسا انقلاب جس نے قوم کو احساسِ کمتری کی زنجیروں سے آزاد کیا اور اسے اپنی اصل قوت کا احساس دلایا۔

اسی لمحے ایک پرانا جملہ تاریخ کے ملبے تلے دفن ہو گیا کہ:

"پاکستان زیادہ دیر جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔”

اور اس کی جگہ ایک نیا یقین جنم لے چکا تھا کہ:

"پاکستان نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ سر اٹھا کر اپنی تقدیر خود لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔”
آج دنیا بھی پاکستان کو پہلے کی طرح نہیں دیکھتی۔ عالمی منظرنامے میں پاکستان اب صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک مؤثر، مضبوط اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اب پاکستان کی بات صرف سنی نہیں جاتی بلکہ اسے اہمیت دی جاتی ہے۔ دفاعی ماہرین، عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان صرف اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ خطے کے توازن اور مستقبل پر اثر انداز ہونے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ جب پاکستان اپنے وجود، وقار اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو بڑے بڑے اندازے، حساب کتاب اور مفادات کے ترازو بکھر جاتے ہیں۔

یہ مقام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیاں، غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، فولادی نظم و ضبط اور ناقابلِ تسخیر جذبہ کارفرما ہے۔ افواجِ پاکستان نے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کی بلکہ قوم کے اعتماد، وقار اور مستقبل کی حفاظت بھی کی ہے۔ میدانِ جنگ ہو، سفارتی محاذ ہو یا داخلی استحکام کا مرحلہ، پاکستانی افواج نے ہر امتحان میں ثابت کیا کہ یہ صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خودمختاری اور استقامت کی مضبوط علامت ہیں۔

اسی طرح افواجِ پاکستان کی قیادت اور اس کے سربراہ کا کردار بھی تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ مضبوط قیادت وہ ستون ہوتی ہے جو بحران کے لمحوں میں قوموں کو خوف سے نکال کر اعتماد عطا کرتی ہے۔ جس بصیرت، حکمتِ عملی، جرات اور تدبر کے ساتھ قیادت نے حالات کا سامنا کیا، اس نے نہ صرف دشمن کے اندازے غلط ثابت کیے بلکہ قوم کے اندر ایک نیا حوصلہ بھی پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم اپنی افواج اور اس کی قیادت کو صرف محافظ نہیں بلکہ قومی وقار، اتحاد اور خود اعتمادی کی علامت سمجھتی ہے۔

دنیا ہمیشہ طاقت کی زبان سمجھتی ہے، مگر طاقت صرف اسلحے میں نہیں ہوتی۔ طاقت اُس یقین میں ہوتی ہے جو شکست ماننے سے انکار کر دے۔ طاقت اُس اتحاد میں ہوتی ہے جو ہر آزمائش کے سامنے دیوار بن جائے۔ طاقت اُس عزم میں ہوتی ہے جو حالات کے آگے جھکنے کے بجائے تاریخ کا رخ موڑ دے۔ 10 مئی کے وہ پونے چار گھنٹے اسی طاقت کا استعارہ بن گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک قوم نے اپنے اندر جھانک کر خود سے کہا کہ ہم کمزور نہیں، ہم بے بس نہیں، ہم نااہل نہیں۔ اور جب قومیں اپنے اوپر یقین کر لیتی ہیں تو دنیا بھی ان پر یقین کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

لیکن تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ جنگ صرف فتح کا نام نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کا آغاز ہوتی ہے۔ اصل کامیابی میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ثابت ہوتی ہے، جہاں قومیں علم کو اپنی طاقت بناتی ہیں، معیشت کو مستحکم کرتی ہیں، اداروں کو مضبوط کرتی ہیں اور اتحاد کو اپنی بنیاد بناتی ہیں۔ کیونکہ اگر فکری اور معاشی بنیادیں کمزور ہوں تو بڑی سے بڑی فتح بھی وقتی ثابت ہوتی ہے، اور اگر بنیادیں مضبوط ہوں تو مختصر ترین لمحے بھی صدیوں تک تاریخ کا رخ متعین کرتے رہتے ہیں۔

آج جب ہم ان پونے چار گھنٹوں کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ایک واقعہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ ایک زندہ سبق بن جاتا ہے۔ یہ سبق ہے خودی کا، خود اعتمادی کا، اتحاد کا اور اپنے بیانیے کو خود تخلیق کرنے کا۔ کیونکہ جو قوم اپنا مقدمہ خود نہیں لکھتی، دنیا اس کے بارے میں فیصلے خود لکھ دیتی ہے۔

یہ صرف پونے چار گھنٹے نہیں تھے…
یہ ایک قوم کی بیداری کا لمحہ تھا۔

ایک ایسا لمحہ جس نے سوچ بدل دی، زاویے بدل دیے اور مستقبل کی سمت متعین کر دی۔
یہ لمحہ وقت کے صفحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نسلوں کے شعور، دلوں کی دھڑکنوں اور قومی حافظے میں ہمیشہ زندہ رہے گا—ایک مسلسل یاد دہانی کے طور پر کہ جب قومیں جاگتی ہیں تو تاریخ واقعی بدل جاتی۔

مشتاق احمد بٹ
سکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button