
جنوبی ایشیا اس وقت دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں دو ایٹمی طاقتیں مسلسل عدم اعتماد، عسکری کشیدگی اور سیاسی و سفارتی محاذ آرائی کی کیفیت میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے کے تقریباً دو ارب انسانوں کے امن، ترقی اور خوشحالی کو یرغمال بنا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مستقل اور سنگین خطرہ پیدا کر رکھاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے علاوہ متعدد امریکی اور بین الاقوامی اداروں نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کا "سب سے خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ” قرار دیا تھاجبکہ متعدد عالمی رہنما، سفارت کار اور سلامتی کے ماہرین بھی برسوں سے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔
حالیہ دنوں پیش آنے والے مختلف واقعات اور بیانات ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بھارت خواہ مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے، اسے داخلی معاملہ قرار دینے یا دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، ہر بڑے علاقائی بحران، ہر جنگ، ہر سفارتی تناؤ، ہر آبی تنازع اور ہر عسکری کشیدگی کے مرکز میں بالآخر یہی مسئلہ کھڑا آتا ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، سلامتی، انسانی حقوق، اقتصادی ترقی اور آبی تعاون کا بنیادی سوال ہے۔
اسی تناظر میں سو سے زائد ممتاز جنوبی ایشیائی سابق سفارت کاروں، سیاست دانوں، دانشوروں، امن کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مشترکہ اعلامیہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات نے واضح الفاظ میں بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی ترک کرکے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں کیونکہ جنگ نہ کبھی مسائل کا حل بنی ہے اور نہ مستقبل میں بن سکتی ہے۔ ان کا یہ مؤقف دراصل اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے تنازع کو نظر انداز کرکے خطے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی سوچ کی بازگشت مقبوضہ جموں و کشمیر کے ممتاز حریت رہنما میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کے بیان میں بھی سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر شدید اختلافات کی ایک لمبی تاریخ رکھنے والے ممالک بھی بات چیت کی میز پر آ سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کیوں نہیں؟ ان کا یہ مؤقف دراصل کشمیری عوام کی اس دیرینہ خواہش کا اظہار ہے کہ خطے کے تمام تصفیہ طلب مسائل، بالخصوص مسئلہ کشمیر، طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ زمینی و تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین کو پیش نظراور کشمیری عوام کی امنگوں کو مقدم رکھتے ہوئے بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
یہ امر قابل غور ہے کہ میرواعظ نے کشمیر کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیاجو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ 1947ء سے لے کر آج تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بڑی جنگوں، سرحدی جھڑپوں، سفارتی بحرانوں، فوجی نقل و حرکت، اسلحے کی دوڑ اور ایٹمی خطرات کی جڑ یہی تنازع رہا ہے۔ اگر اس بنیادی مسئلے کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو محض عارضی جنگ بندی یا وقتی سفارتی رابطے کبھی بھی دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقد ہونے والا بین الاقوامی سیمینار بھی اسی وسیع تر تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، عالمی بینک کے سابق صدر ڈیوڈ مالپاس، عالمی قانون اور بین الاقوامی ثالثی کے ممتاز ماہر پروفیسر شان مرفی، بین الاقوامی آبی قانون کے معروف ماہر پروفیسر سلمان ایم اے سلمان، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، آبی امور کے ماہرین، قانونی شخصیات اور بین الاقوامی پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ ان مقررین نے سندھ طاس معاہدے کو نہ صرف دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا بلکہ اسے جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی، علاقائی تعاون اور امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
یہ سیمینار دراصل اس حقیقت کا اظہار تھا کہ پانی کا مسئلہ بھی بالآخر کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے بالائی علاقے جموں و کشمیر میں واقع ہیں لہٰذا جب تک کشمیر کا تنازع موجود رہے گا، آبی وسائل پر اعتماد، تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی بھی مستقل خطرات سے دوچار رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
نائب وزیراعظم پاکستان محمد اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں بجا طور پر خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنے آبی حقوق، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا یہ مؤقف اس عالمی اصول کی بھی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی معاہدے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیے جا سکتے۔
اسی سیمینار میں بلاول زرداری نے بھی ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ زندگی، خوراک، معیشت اور قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے وہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی طرح دریائے سندھ کے پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا۔ ان کا یہ کہنا کہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں، دراصل مسئلہ کشمیر اور آبی تنازع کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسئلہ کشمیر صرف سیاسی یا سفارتی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی، گرفتاریاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں، آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششیں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی اداروں کی تشویش کا باعث بنتی رہی ہیں۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کی بنیاد پراپنا مستقبل طے کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، اس خطے میں حقیقی امن کا خواب ادھورا رہے گا۔
بھارت اگرچہ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے اور اگست 2019 کی آئینی جارحیت کے بعد سے "غیر معمولی امن” قائم ہوچکا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، جب بھی سفارتی تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں، جب بھی پانی پر تنازع سامنے آتا ہے، جب بھی عالمی رہنما جنوبی ایشیا میں امن کی بات کرتے ہیں، ہر مرتبہ گفتگو کا محور کشمیر ہی بنتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو وقتی طور پر فوجی بوٹوں تلے دبایا یا جبری طور پر خاموش اور جھوٹے پروپیگنڈہ سے چھپایا تو جا سکتا ہے، پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی برادری کو بھی اب محض بحرانوں کے بعد وقتی ثالثی کے بجائے اس بنیادی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں، علاقائی تنظیموں اور بین الاقوامی قانون کے علمبرداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک مستقل تنازع کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ اگر دنیا واقعی ایٹمی تصادم، آبی جنگوں اور انسانی المیوں سے بچنا چاہتی ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کی جانب سنجیدہ پیش رفت کرنا ہوگی۔
آج جنوبی ایشیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل دشمنی، فوج کشی، اسلحے کی دوڑ، آبی تنازعات، معاشی زوال اور انسانی المیوں کی طرف جاتا ہےجبکہ دوسرا راستہ مذاکرات، اعتماد سازی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی جانب جاتا ہے۔ سو سے زائد جنوبی ایشیائی رہنماؤں کی اپیل، میرواعظ عمر فاروق کا پیغام، اسلام آباد سیمینار میں عالمی ماہرین کی آراء، اسحاق ڈار اور بلاول بھٹو زرداری کے بیانات، سب دراصل ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے تمام بڑے تنازعات کی جڑ ہےاور اس کا منصفانہ حل ہی اس پورے خطے میں امن، استحکام، اقتصادی ترقی، آبی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے تاریخ بھی تسلیم کرتی ہے، عالمی قیادت بھی دہراتی رہی ہےاور موجودہ حالات بھی ہر روز مزید واضح کرتے جا رہے ہیں۔







