مودی راج میں ہندو فسطائیت کا ننگا ناچ، 45 روز میں 23 مساجد، مدارس، درگاہیں، عیدگاہیں مسمار
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
- ارشد میر

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہےمگر گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں رونما ہونے والے واقعات اس دعوے کے برعکس ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو ان کے جان و مال، عزت و ناموس اور تہذیب و شناخت پر مسلسل و منظم حملوں اور سیاسی و سماجی حاشیہ برداری کا سامنا ہے۔ جون 2026 میں سامنے آنے والی متعدد رپورٹس کو اگر الگ الگ واقعات کے بجائے ایک بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ایسا نقشہ ابھرتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات اب محض وقتی سیاسی بیانات یا مقامی انتظامی کارروائیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک منظم اور ہمہ جہت پالیسی کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
گزشتہ صرف پینتالیس دنوں کے دوران بی جے پی کے زیر اقتدار چھ ریاستوں میں 23 سے زائد مساجد، مدارس، درگاہیں اور عیدگاہیں مسمار کیے جانے کے روح فرسا واقعات نے نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیموں بلکہ عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے علمبردار حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دہلی سے لے کر مہاراشٹر، اترپردیش، راجستھان، گجرات اور ہریانہ تک بلڈوزروں کی یہ یلغار محض اینٹی انکروچمنٹ یا سڑکوں کی توسیع کی کارروائیاں نہیں بلکہ مسلم شناخت و ورثے کو مٹانے کےایسے رجحان کی عکاسی ہیں جو حکومتی پالیسیوں سے لیکر عوامی رویوں میں سرائیت کرچکا ہے ۔
اس مہم کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کی زد میں صرف نئی تعمیرات نہیں بلکہ صدیوں پرانی مذہبی اور ثقافتی یادگاریں بھی آ رہی ہیں۔ وارانسی کی تقریباً ایک ہزار سال قدیم مسجد گنج شہیداں، سنبھل اور اٹاوہ کی صدیوں پرانی درگاہیں، دہلی کی دو سو سالہ درگاہ پنچ پیراں اور جے پور کی نورانی مسجد جیسے مقامات محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی تاریخ کی علامتیں ہیں۔ ان مقامات کو مسمار کرنا درحقیقت ایک ایسے تاریخی ورثے کو مٹانے کے مترادف ہے جو صدیوں سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی تعلق و تعامل کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔
اس صورتحال کی مزید سنگینی اس وقت اجاگر ہوتی ہے جب ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ واقعی تجاوزات کے خلاف غیرجانبدارانہ کارروائیاں ہیں تو پھر غیر مجاز ہندو مذہبی ڈھانچوں کے خلاف اسی شدت اور تسلسل کے ساتھ کارروائیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ یہی سوال انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے حلقوں کو اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ مسئلہ صرف زمین یا تعمیرات کا نہیں بلکہ قانون کے غیر مساوی اطلاق کا ہے۔
مساجد اور درگاہوں کی مسماری کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی مسلمانوں کو مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمان فیری والے اکبر علی مونڈل کا بہیمانہ قتل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول اب صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں اور معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ نئی دہلی کی تنظیم ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (APCR) کی رپورٹ کے مطابق یہ واقع اقلیتی تاجروں کو درپیش عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات ادارہ جاتی اور معاشی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے پوری برادری کے لئے خطرات کو نمایاں کرتے ہیں
۔
یہ واقعہ دراصل بھارت میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد اور مذہبی تعصب کی ایک کڑی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران گاؤ رکشا کے نام پر تشدد، مسلمانوں کے کاروبار کے بائیکاٹ کی مہمات، مذہبی شناخت کی بنیاد پر حملے اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈا ایک ایسے ماحول کو جنم دے چکے ہیں جہاں مسلمان خود کو مسلسل غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف یہ دباؤ صرف مذہبی یا سماجی نہیں بلکہ معاشی اور تعلیمی میدانوں میں بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کی جانب سے اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے بجٹ میں 62 فیصد سے زائد کٹوتی اس کی تازہ مثال ہے۔ اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز میں اس قدر بڑی کمی محض ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی وظائف، فلاحی پروگرام، ہنر مندی کی تربیت اور پسماندہ طبقات کے لیے جاری ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی اقلیت کو کمزور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کے تعلیمی اور معاشی مواقع محدود کر دیے جائیں۔ جب ایک طرف مدارس اور تعلیمی اداروں کو مسمار کیا جا رہا ہو اور دوسری طرف اقلیتی تعلیم کے بجٹ میں نمایاں کمی کی جا رہی ہو تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ترقی کے دھارے سے دور رکھنے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔
اسی تناظر میں یکساں سول کوڈ (UCC) کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ بی جے پی حکومت اسے قومی یکجہتی اور قانونی مساوات کا ذریعہ قرار دیتی ہےتاہم مسلم تنظیمیں اسے مذہبی آزادی میں مداخلت تصور کرتی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جماعت اسلامی ہند نے واضح طور پر کہا ہے کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کے منافی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہے اور مختلف مذہبی برادریوں کے عائلی قوانین اسی تنوع کا حصہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اب ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تحریک کا مقصد صرف UCC کی مخالفت نہیں بلکہ مساجد و مدارس کی مسماری، ہجومی تشدد، امتیازی پالیسیوں اور مسلمانوں کے سیاسی و سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے رائے عامہ کو متحرک کرنا ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے بھی اس تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں انصاف پسند ہندو شہری بھی شامل ہوں گے کیونکہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ بھارتی آئین اور جمہوری اقدار کا ہے۔
بھارتی مسلمانوں کو حاشیہ پہ دھکیلنے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ اگر کسی ملک میں ایک مخصوص مذہبی برادری کے مذہبی مقامات، تعلیمی ادارے، معاشی مواقع اور آئینی حقوق بیک وقت دباؤ کا شکار ہوں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی بنیاد اکثریت کی حکمرانی ضرور ہے لیکن اس کی اصل روح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں مضمر ہوتی ہے۔ جب اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہونے لگتی ہے۔ وقت بتلائے گا کہ ہندو فسطائیت کی جس آگ میں وہ مسلمانوں کو جلاکر ان کی تہذیب و شناخت کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ آگ ان کے ہندو راشٹر اور اکھنڈ بھارت کے خواب کو بھی بھسم کردے گی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کو اس حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی تنظیم "جسٹس فار آل” سمیت متعدد انسانی حقوق کے اداروں نے مساجد کی مسماری اور مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بھارت کا وہ عالمی بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے جس میں وہ خود کو ایک کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی جمہوری ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات الگ الگ نہیں ہیں۔ مساجد کی مسماری، اقلیتی بجٹ میں کٹوتی، ہجومی تشدد، مذہبی آزادی پر قدغنیں، یکساں سول کوڈ کا نفاذ، وندے ماترم کو لازمی بنانے کی کوششیں اور مسلمانوں کی سیاسی حاشیہ برداری — یہ سب ایک ہی تصویر کے مختلف رخ دکھائی دیتے ہیں۔ اس تصویر میں ایک ایسا بھارت نظر آتا ہے جہاں ہندوتوا نظریہ ریاستی پالیسیوں پر پہلے سے کہیں زیادہ غالب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا بھارت جو حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے لیکر ہندو انتہاء پسندوں کی ایک ایک واردات تک دو قومی نظریہ کی صداقت کی گواہی دیتا اور پاکستان کے وجود کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔
نام نہاد جمہوری اور سیکیولر بھارت کی اصل طاقت اس کے تنوع، کثرتیت اور مختلف مذاہب کے درمیان بقائے باہمی میں تھی۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو نقصان صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے بھارتی معاشرے کا ہوگا۔ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب تمام شہری خود کو برابر کا شریک سمجھیں، نہ کہ جب ایک طبقہ خود کو مسلسل دیوار سے لگایا ہوا محسوس کرے۔
آج بھارت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ مذہبی رواداری، آئینی بالادستی، کثرتیت اور مساوی شہری حقوق کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ مذہبی انتہاپسندی، اکثریتی غلبے، سماجی تفریق اور فسطائی طرزِ حکمرانی کی جانب لے جاتا ہے۔ تاہم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت کے چہرے پر چڑھے ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘، ’’سیکولرازم‘‘، ’’اہنسا‘‘، ’’مساوات‘‘ اور ’’پنچ شیل‘‘ کے خوشنما اور مخملیں نقاب کو خود ہی تار تار کر دئے۔ مساجد کی مسماری، اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں، ہجومی تشدد، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں اور ریاستی اداروں کی بڑھتی ہوئی نظریاتی وابستگی نے بھارت کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مذہبی ہم آہنگی اور حقیقی جمہوری اقدار کی طرف واپسی نہ صرف محال بلکہ تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ آج دنیا ایک ایسے بھارت کو دیکھ رہی ہے جس کی اصل شناخت اس کے آئینی دعوؤں سے نہیں بلکہ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہوئی فسطائی پالیسیوں سے متعین ہوتی نظر آتی ہے۔
حالیہ واقعات سے پیدا ہونے والے سوالات صرف مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق نہیں بلکہ خود بھارتی جمہوریت کے مستقبل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اگر قانون کا اطلاق واقعی سب کے لیے یکساں ہے تو پھر اس کا ثبوت بھی یکساں ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر مساجد کے گرتے ہوئے مینار اور درگاہوں کے مٹتے ہوئے آثار صرف عمارتوں کی تباہی نہیں بلکہ اس تصور کے خاتمے کی علامت بن جائیں گے جسے بھارت اپنی جمہوری شناخت کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔






