پاکستان

پانی کو سیاسی دبائو یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا: ترجمان دفترِ خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پانی کو سیاسی دبائو یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کر سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے امن اور سکون کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اہم بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی بھی نام نہاد کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بے بنیاد ہے، جسے پاکستان پوری طاقت سے مسترد کرتا ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔طاہر اندرابی نے بھارتی سوچ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اصل پریشانی بھارتی قیادت کا وہ رویہ ہے جس کے تحت وہ پانی کو ایک ایسا اثاثہ سمجھ رہے ہیں جسے جب چاہیں روک لیں، موڑ دیں یا اپنے قابو میں کر لیں۔ان کے مطابق اپنی مرضی سے قبضہ کرنے کی یہ سوچ نہ صرف پانی کے اس پرانے معاہدے کے خلاف ہے بلکہ عالمی قانون کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا بھارت کے اپنے عالمی وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جس سے دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button