مقبوضہ جموں و کشمیر

دو کتابوں کے مصنفین کے خلاف یواے پی اے کے تحت مقدمہ درج، جموں میں چھاپے

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کاونٹر انٹیلی جنس نے دو کتابوں کے مصنفین کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے اور بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جن میں مبینہ طور پر حریت قیادت کی تعریف کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مقدمہ پولیس سٹیشن کاونٹر انٹیلی جنس جموں میں یو اے پی اے کی دفعہ 13 کے علاوہ مجرمانہ سازش، ملکی خود مختاری کو خطرے میں ڈالنے، دشمنی کو فروغ دینے اور جھوٹے بیانات شائع کرنے کے الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ جن کتابوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ان میں” پرسنلٹیزاینڈ لیجنڈز آف جموں وکشمیر“ اور”گریٹ پرسنلٹیز آف جموں وکشمیر“ ‘ شامل ہیں۔پولیس نے جموں کے باہو پلازہ میں ایک پبلشر کے دفتر پر چھاپہ مارا اور دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات ضبط کیے ۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب قابض حکومت نے بی جے پی اور اس کے اتحادی ہندوتوا تنظیموں کے دباو میں آکر محکمہ تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا اور سرکاری سکولوں کی لائبریریوں سے دو نوںکتابیں ہٹانے کا حکم دیا۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان کتابوں میں نامناسب موادہے۔یہ تنازعہ ایک بار پھر مقبوضہ جموں و کشمیر میںہر اس بیانیے کے بارے میںقابض انتظامیہ اور ہندوتواتنظیموں کے بڑھتے ہوئے عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے جو ان کے نظریاتی ایجنڈے کے مطابق نہ ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات تعلیمی آزادی کوسلب کرنے اور علاقے میں متبادل سیاسی آوازوں کو دبانے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button