بھارت: نام نہاد گاﺅ رکشکوں کو سزا سنانے پر مسلمان جج کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا

نئی دہلی:بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 2022 میں ایک مسلمان شخص کو پیٹ پیٹ کرقتل کرنے پر 14 ہندو انتہاپسندوں کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد مسلمان خاتون جج کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے 12 جون کو نذیر احمد کے کیس کا فیصلہ سنایا جسے نام نہاد گاﺅ رکشکوں نے سیونی مالوہ میں پیٹ پیٹ کربے دردی سے قتل کردیاتھا۔ عدالت نے ان افراد کو قتل اور ہنگامہ آرائی کا مجرم قراردیا۔فیصلے کے بعد آن لائن ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں ہندو انتہا پسند تبسم خان کو گالیاں دے رہے ہیں، عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ہندو انتہاپسند کہہ رہے ہیں کہ اگر مجرموں کو رہا نہ کیاگیا تو ملک بھر میں خونریزی اورمسلمانوں کا قتل عام کیا جائے گا۔ انتہاپسندوں کی توجہ فیصلے کے قانونی استدلال پر نہیں بلکہ جج تبسم خان کی مذہبی شناخت پر مرکوز ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کی بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن سمیت سرکردہ قانونی اداروں نے دھمکیوں کی مذمت کی ہے اور ملزموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی جج کی سیکورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو اجاگرکیاہے۔







