بھارت

نئی دلی :طلبہ پر لاٹھی چارج جمہوریت پر حملہ ہے، کھڑگے کی مودی حکومت پر تنقید

نئی دلی:بھارت میں اپوزین کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جنتر منترنئی دہلی پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے قومی سطح کے امتحانات میں بے ضابطگیوں، طلبہ پر لاٹھی چارج اور دیگر معاملات پر مودی حکومت پر کری تنقید کی ۔راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت طلبہ کے مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے اور ان کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ پر طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے اور حکومت کو اس معاملے پر جواب دینا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ملک کے اہم مسائل حل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے اور اسے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔اگر حکومت امتحانات شفاف اور منظم انداز میں منعقد نہیں کر سکتی تو یہ ذمہ داری کسی اہل ادارے کو سونپ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں پیپر لیک معاملے پر بحث اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس رہنمائوں نے الزام عائد کیا کہ امتحانی نظام کی مبینہ ناکامی سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔کانگریس رہنما ششی تھرور نے کہا کہ ان کی جماعت گزشتہ کئی ماہ سے پیپر لیک معاملے پر آواز اٹھا رہی ہے اورپارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ قومی مسائل پر گفتگو کا فورم ہے اور حکومت کو بحث سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔کانگریس رہنما گرجیت سنگھ اوجلا نے کہا کہ اپوزیشن ایوان میں پیپر لیک معاملے پر بحث چاہتی ہے اور حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ تعلیمی نظام نے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے بھی تعلیمی نظام کی مبینہ ناکامیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان معاملات پر بحث ہونی چاہیے تاکہ متعلقہ فریق اپنا موقف پیش کر سکیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button