بھارت :بہار میں اردو، عربی اور فارسی کے اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے:تیجسوی یادو
پٹنہ : بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست بہار کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اورآر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ ریاست میں اردو، عربی اور فارسی کے اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تیجسوی یادو نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے نام ایک خط میں کہاکہ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ کئی اسکولوں میں اردو، عربی اور فارسی کے واحد استادکو بھی ’سرپلس‘ (زائد) قرار دے کر تبادلے کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ا نہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پربھی خط کی کاپی شیئر کی ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے خط میں لکھا کہ بہار میں اساتذہ کے تبادلے کے موجودہ طریقہ کار کے حوالے سے مسلسل شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر اردو، عربی اور فارسی اساتذہ کے ساتھ امتیازی اورقانون کے خلاف سلوک سے اساتذہ میں بڑے پیمانے پر عدام اطمینان پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی اسکول میں کسی مضمون کا صرف ایک استاد دستیاب ہے تو اسے ’سرپلس‘ قرار دے کر تبادلہ کرنا اس اسکول میں متعلقہ مضمون کی پڑھائی ختم کر دینے کے مترادف ہے۔آر جے ڈی لیڈر نے حکومت سے اردو، عربی اور فارسی اساتذہ کے تبادلے کی فہرست کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے، قانون مخالف پائے جانے والے تبادلے منسوخ کرنے، مضمون کے واحد استادکو سرپلس قرار دینے کے عمل کو روکنے، منظور شدہ عہدوں کو ختم نہ کرنے اور زیر التواءتنخواہیں فوری طور پر جاری کرنےکا مطالبہ کیا۔ تیجسوی یادو نے متعلقہ افسران کی جوابدہی طے کرنے اور قصوروار پائے جانے والے افسران کے خلاف قوانین کے مطابق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔





