بھارت

بھارت :دفاعی سازوسامان کی خریداری تاخیر کا شکار، 14 روزہ خریداری کا عمل 154 دن تک جا پہنچا

نئی دہلی :  بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فوج کی ہنگامی خریداری کا 14 روزہ عمل 154 دنوں تک طول پکڑ گیا جو ملک کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سی اے جی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020-21 کے دوران ہنگامی خریداری کے جن معاہدوں کا جائزہ لیا گیا ان میں سے 72 فیصد مقررہ مدت کے اندر سامان کی فراہمی میں ناکام رہے۔ تاخیر سے میزائل، ڈرونز، ڈرون شکن نظام، ریڈار، اسلحہ وگولہ بارود، محفوظ مواصلاتی نظام اور بیلسٹک ہیلمٹس کی فراہمی متاثر ہوئی۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خریداری میں تاخیر کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل کے ادوار میں ٹی72 اور بی ایم پی ٹینکوں کے پرزوں کے آرڈرز میں 725 سے 2,551 دن تک کی تاخیر ہوئی۔ بھارتی فضائیہ کے آڈٹس میں اے این32 طیاروں کے پرزوں کی فراہمی میں 17 سے 810 دن تک کی تاخیر ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض اہم اشیا 365 سے 870 دن تک فراہم نہیں کی گئیں۔سی اے جی نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کی سپلائی میں ناکامیوں نے فضائی بیڑے کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں ایک اپ گریڈ پروگرام کے دوران ٹرانسپورٹ طیاروں کے بیڑے کے 50 فیصد سے زیادہ طیارے گراو¿نڈ رہے۔2009 سے 2011 کے بھارتی بحریہ کے ریکارڈ میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے جہاں مگ۔29 کے طیارے اسلحے کی فراہمی سے پہلے ہی پہنچ گئے تھے جبکہ آبدوز کے نظام کی تنصیب میں ایک دہائی کی تاخیر ہوئی جس سے 167.64 کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ تینوں مسلح افواج سے متعلق سی اے جی کی رپورٹس میں2000 کی دہائی کے وسط سے 2026 تک کمزور معاہدوں، ٹینڈرز میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بار بار ہونے والی تاخیر بھارت کی فوجی جدید کاری کی کوششوں میں شفافیت، نگرانی اور آپریشنل تیاری کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑی کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاری اخراجات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے سیاسی دعوﺅں کے باوجود بروقت دفاعی خریداری، اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور اندرونی نظم و ضبط میں موجود خامیاں بھارتی افواج کی جنگی صلاحیت کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button