بھارت

بھارت :کرناٹک کے کانگریس لیڈر کی آر ایس ایس پرشدید تنقید ، شفافیت، مراعات پر سوالات اٹھادیے

بنگلورو:بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر اور کانگریس لیڈر پریانک کھرگے نے ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے اس کی شفافیت اور اس کی قیادت کو ملنے والی مراعات پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پریانک کھرگے نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں تمام رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیموں کو انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے پڑتے ہیں اور اپنے عطیات اور مالیات کے بارے میں حکومت کو مطلع کرنا پڑتاہے۔ اگر آر ایس ایس ایک این جی او ہونے کا دعوی کرتی ہے تو وہ اس پر کیوں عمل نہیں کرتی؟انہوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو فراہم کردہ سیکورٹی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جنہیں سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کے تحت اعلی ترین سطح کی سکیورٹی دی گئی ہے۔ کھرگے نے ایک ایسے شخص کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے عوامی فنڈز خرچ کرنے پر سوال اٹھایا جس نے ٹیکس میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا ہے۔جب ان کے پاس پہلے سے ہی لاٹھیاں اور بٹالین موجود ہیں تو انہیں کس اضافی تحفظ کی ضرورت ہے؟انہوں نے آر ایس ایس کے بطور این جی او رجسٹر کرنے سے انکار پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسا کیوں ہے کہ آر ایس ایس رجسٹریشن یا عوامی جانچ کے بغیر کام کرتی ہے؟ اگر وہ واقعی قوم کی بے لوث خدمت کرتے ہیں تو لاکھوں دیگر این جی اوز کی طرح جو شفاف اور قانونی طور پر کام کرتی ہیں، رجسٹریشن کیوں نہیں کرتے ؟انہوں نے کہا جب بھی کوئی آر ایس ایس سے جوابدہی کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ایسا کیوں کرتے ہیں جیسے انہیں بچھو نے ڈنک مارا ہو؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ آر ایس ایس قوم کی خدمت کرنے کا دعوی کرتے ہوئے احتساب اور ٹیکس سے بچ رہا ہے۔انہوں نے آر ایس ایس کے اندر مالی شفافیت کے فقدان کو اجاگر کرتے ہوئے سوال اٹھایاکہ ان کے عطیات کہاں سے آتے ہیں؟ ان کے عطیہ دہندگان کون ہیں؟ کون کل وقتی پرچارکوں اور ان کی نام نہاد سماجی مہموں کو فنڈ دیتا ہے؟کھرگے نے کہا کہ بھارتی عوام کی اکثریت نہ تو آر ایس ایس کی حمایت کرتی ہے اور نہ ہی اسے قبول کرتی ہے۔ وہ ملک، آئین یا قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔کھرگے کا یہ بیان سرکاری املاک میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی کے مطالبے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکی آمیز کالوں کے بعد آیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button