کشتواڑ میں کمسن بچی کی بے حرمتی اور موت کے خلاف احتجاج پانچویں روز بھی جاری
جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع کشتواڑ کے علاقے چھاترو سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن طالبہ کی بے حرمتی اور موت کے خلاف احتجاج بدھ کے روز مسلسل پانچویں روز بھی جاری رہا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق طلبائ، قبائلی برادری کے افراد، تاجروں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دھرنے اور ریلیاں جاری رکھیں اور شفاف اور مقررہ وقت میں تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کا آغاز کمسن بچی کی موت کے بعد ہوا، جسے ایک سرکاری اسکول کے استاد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں وہ حاملہ ہو گئی تھی۔ حمل گرانے کی کوشش کے دوران اس کی حالت بگڑ گئی اور علاج کے لیے لیجاتے ہوئے اس کی موت واقع ہو گئی۔کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن اضلاع میں مظاہرین نے فوری طور پر تحقیقات کرنے اور مجرم کومثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے اور فوری کارروائیضروری ہے۔کشتواڑ شہر میں مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلباءنے پ±رامن احتجاجی ریلی نکالی، انصاف کے حق میں نعرے لگائے اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ضلع ڈوڈہ میں بھدرواہ کے علاقے سرٹنگل میں اسکول کے بچوں نے بڑا احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں قبائلی برادری کے افراد نے مقتول بچی کے آبائی علاقے میں دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ زیادتی، حمل گرانے کی کوشش اور حقائق چھپانے میں ملوث تمام افراد کو تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے جامع اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرانے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے قیام کا مطالبہ کیا۔۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں مبصرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2014 میں نئی دہلی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت بھر میں کمسن بچوں اور خواتین کے خلاف ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سزا سے استثنیٰ کے ماحول اور پسماندہ برادریوں کو نشانہ بنانے کے رجحان نے مجرموں کے حوصلے بلند کیے ہیں جبکہ انصاف اور جواب دہی یقینی بنانے والے اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔








