رافیل سے کیرانہ ہلز تک: بھارت کا بیانیہ سازی کا کھیل، بدلتے دعوے اور حقائق سے مسلسل فرار
ارشد میر

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ ان کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں اور بعض اوقات اصل معرکہ توپوں، میزائلوں اور طیاروں کے بعد بیانیے کی دنیا میں شروع ہوتا ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد سامنے آنے والی بھارتی کوششیں بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں۔ ایک طرف بھارتی سابق عسکری قیادت کی جانب سے جنگ کے واقعات کی نئی تشریحات سامنے آرہی ہیں تو دوسری جانب بھارتی میڈیا میں ایسی کہانیاں پیش کی جارہی ہیں جن کا مقصد پاکستان کے جوابی اقدام ، معرکہ حق سے پیدا ہونے والی عبرتناک شکست کی پردہ داری کرکے مودی سرکار کی جلد بچاناہے۔
بھارتی سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کا 25 اگست 2026 کو کیرانہ ہلز سے متعلق بیان اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جنگ کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد یہ وضاحت سامنے آتی ہے کہ سرگودھا کے اطراف ریڈار تلاش کرنے کے لیے بھیجے گئے لوئٹرنگ میونیشنز میں سے ممکنہ طور پر ایک ہدف تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد کیرانہ ہلز پر جا گری۔ بظاہر یہ ایک عسکری واقعے کی وضاحت ہےمگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ جنگ کے دوران پیش آیا تھا تو اس کی یہ تفصیل اتنے عرصے بعد کیوں سامنے آئی؟ جنگ کے فوراً بعد کے بیانات، عسکری دعوے اور اب سامنے آنے والی وضاحتوں میں اگر فرق ہے تو اس تضاد کی وجوہ جاننا خود ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔
پاکستان نے اسی لیے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعد از وقت سامنے آنے والے دعوے زمینی حقائق اور قابلِ تصدیق ریکارڈ تبدیل نہیں کرسکتے۔ جنگی تاریخ کسی ایک فریق کے بعد از وقت بیان سے نہیں لکھی جاتی بلکہ اس کے لیے شواہد، سیٹلائٹ تصاویر، آزادانہ تحقیقات اور معتبر بین الاقوامی ریکارڈ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی اصول بھارت کے ان دعوؤں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو جنگ کے دوران یا اس کے بعد سامنے آتے رہے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جدید جنگ میں عسکری کامیابی صرف حملوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اہداف کے حصول، دفاعی صلاحیت، نقصانات، ردعمل اور جنگ کے مجموعی نتائج سے پرکھی جاتی ہے۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا دندان شکن جواب دیکر اپنی عسکری صلاحیت کا لوہا ایسا منوایا کہ دنیا معترف ہوگئی۔ بھارت کوششوں کے باوجود اپنے نقصاناتا ور تاریخساز شکسے کو نہ چھپا پایا۔ ایسے میں جنگی نتائج کو بعد از وقت بیانات یا ڈرامائی مناظر کے ذریعے نئے معنی دینے کی کوشش سوالات کو ختم کرنے کے بجائے مزید جنم دیتی ہے۔
یہی صورتحال بھارتی میڈیا کے بیانیے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ بہاولپور کی سبحان اللہ مسجد کی تعمیر نو سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹ، جس میں پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر 25 کروڑ روپے فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک میں بے بنیاد قرار دیا گیا۔ یہ محض ایک خبر کی تردید کا معاملہ نہیں بلکہ جنگ کے بعد اطلاعاتی جنگ کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ہے۔
جنگ کے دوران ریاستیں صرف عسکری کارروائیاں نہیں کرتیں بلکہ اپنے عوام کا حوصلہ برقرار رکھنے، مخالف فریق کی ساکھ متاثر کرنے اور عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے اطلاعاتی محاذ بھی استعمال کرتی ہیں۔ اگر کسی جنگی نتیجے کو اپنی عوام کے سامنے قابلِ قبول بنانے کے لیے مسلسل نئی کہانیاں تشکیل دینا پڑیں تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ اصل واقعات اور سرکاری بیانیے کے درمیان خلا پیدا ہوچکا ہے۔
بھارتی میڈیا کے حوالے سے یہ اعتراض بھی اہم ہے کہ بعض اوقات خبر اور پروپیگنڈا کے درمیان لکیر دھندلا دی جاتی ہے۔ نام نہاد آپریشن سندور سے متعلق ڈاکیومنٹری کو بھی پاکستانی وزارت اطلاعات نے حقائق اور شواہد کے بجائے ڈرامائی انداز، مبالغہ آرائی اور بالی ووڈ طرز کی پیشکش پر مبنی قرار دیا ہے۔ اگر کسی عسکری کارروائی کی تشہیر میں شواہد کے بجائے جذبات، ڈرامائی مناظر اور قومی تفاخر کو بنیادی حیثیت حاصل ہوجائے تو وہ تاریخ کا دستاویز بننے کے بجائے ریاستی بیانیے کی تشہیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ میدانِ جنگ میں پیش آنے والے واقعات کی تعبیر بدلنے کی کوشش اور میڈیا کے ذریعے متبادل کہانیوں کی تشکیل ، یہ سب جدید جنگ کے ایک نئے رخ کی نشاندہی کرتے ہیں مگر سچ پوچھئے بھارت کی شکست اتنی واضع ہے کہ وہ چھپائے نہیں چھپتی۔ تاریخ کسی ڈاکیومنٹری کے ڈرامائی مناظر، میڈیا کی شہ سرخیوں یا برسوں بعد سامنے آنے والے بیانات کی محتاج نہیں ہوتی۔ تاریخ اپنے شواہد خود محفوظ رکھتی ہے۔ میدانِ جنگ میں جو کچھ ہوا، اس کے اثرات زمین، فضا، تنصیبات، ٹیکنالوجی اور دستیاب ریکارڈ میں موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح سائبر جنگ بھی صرف دعووں سے نہیں بلکہ تکنیکی شواہد سے ثابت ہوتی ہے۔
مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ محض چند روزہ عسکری تصادم نہیں تھی۔ اس نے جنوبی ایشیا کے روایتی عسکری توازن، جدید جنگی ٹیکنالوجی، فضائی طاقت، سائبر صلاحیت اور سب سے بڑھ کر بیانیے کی جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے ایک فیصلہ کن عسکری کامیابی کا تاثر دینے کی کوشش کی مگر جنگ ختم ہوتے ہی اس کے اپنے عسکری حکام، سیاسی رہنماؤں، غیر ملکی ذرائع اور بین الاقوامی شواہد سے ایسے سوالات اٹھنے لگے جن کا جواب آج تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب بھارتی طیاروں کے نقصانات کا سوال صرف پاکستان کے دعوے تک محدود نہیں رہا۔ جنگ کے فوراً بعد پاکستان نے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا اور مقامات، ملبے، طیاروں کے شناختی نشانات اور دیگر شواہد پیش کیے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اسوقت تک دستیاب بصری شواہد کا تجزیہ کرکے کم از کم دو بھارتی جنگی طیاروں، ایک رافیل اور ایک میراج 2000، کے گرنے کی تصدیق کی تھی۔ فرانسیسی اخبار Le Monde نے بھی کم از کم تین بھارتی جنگی طیاروں کے نقصان کی رپورٹ کرتے ہوئے کہا تھاکہ تین میں سے تاحال ایک رافیل کے تباہ ہونےکی اطلاع ثقہ ہے۔
پھر بھارت کے اپنے اعلیٰ عسکری حکام کے بیانات سامنے آئے۔ جنگ کے فوری بعد بھارتی ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل اے کے بھارتی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ "losses are a part of combat” ۔ خود بھارتی مبصرین نے اسے اعتراف شکست سے تعبیر کیا۔ پھر سنگاپور میں Reuters کو انٹرویو دیتے ہوئے انہی جنرل انیل چوہان نے صاف تسلیم کیا تھاکہ بھارت کو جنگ کے ابتدائی مرحلے میں فضائی نقصانات اٹھانا پڑے۔ البتہ انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان نقصانات کے بعد بھارت نے اپنی حکمت عملی کیسے تبدیل کی۔ یہ اعتراف اس لیے اہم تھا کہ بھارت ابتدا میں اپنے نقصانات پر خاموش تھا۔ جنرل چوہان کا یہ بیان دراصل بھارتی طیارے گرنے کی حقیقت کی اگرچہ نفی نہیں بلکہ اس کی جزوی تصدیق بن گیا۔
اس کے بعد انڈونیشیا میں بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار کا بیان مزید اہمیت اختیار کرگیا۔ ایک سیمینار میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے کچھ طیارے ضرور کھوئے، اگرچہ وہ پاکستان کے دعوے کے مطابق "بہت زیادہ” نقصانات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ ان کے مطابق ابتدائی نقصان کے بعد بھارت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ بھارتی سفارت خانے نے بعد میں ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے کا مؤقف اختیار کیامگر اس وضاحت نے بھی اس بنیادی اعتراف کو ختم نہیں کیا کہ بھارت کو طیاروں کی تباہی کا وہ گہرا زخم لگا ہے جو وہ دہائیوں تک نہیں بھول سکتا۔
یہاں سوال تعداد کا ہےاور یہی سوال بھارتی حکومت کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن دکھائی دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ کے بعد بارہا کہا کہ پاک بھارت لڑائی میں متعدد جنگی طیارے گرائے گئے۔ ابتدا میں انہوں نے پانچ طیاروں کا ذکر کیا، بعد میں تعداد بڑھ کر سات، آٹھ اور پھر فروری 2026 میں دس طیاروں تک پہنچ گئی، جبکہ فروری 2026 میں ایک اور موقع پر ان کا عدد گیارہ تک بھی پہنچا۔ اب ایک سادہ سا سوال ہےکہ اگر یہ بھارتی طیارے نہیں تھے تو پھر کس کے طیارے تھے؟
دنیا کی کسی حلکومت،کسی دفاعی تنظیم یا انٹلیجنس نےاس جنگ میں پاکستان کے طیارے گرنے کی بات نہیں کی تو پھر یہ طیارے گرے کس کے؟ اگر ٹرمپ کے بیان سے پاکستانی طیارےمراد لی جائے تو بھارت کو تو پھر اس سے بہتر پروپیگنڈا کا موقع مل ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کو فوراً مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ پاکستان کے جنگی طیاروں کی آزادانہ گنتی کرائی جائے۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، ٹرمپ کے بیانات پر خاموش رہا، کیوں؟
کیونکہ ایسا مطالبہ ایک دوسرے مطالبے کو بھی جنم دیتا کہ اگر پاکستان کے طیارے گنے جائیں گے تو بھارتی طیارے بھی گنے جائیں۔ تو یہی وجہ ہے کہ بھارت خاموش رہا تاہم اسکی یہ خاموشی بھی اسکی جنگی شکست اور طیاروں کے نقصانات کی گواہی دیتی ہے۔
یاد کیجئے 2019 میں بھارت کو اسی طرح طیاروں کی تباہی اور پائلٹ کی گرفتاری کی ہزیمت اٹھانا پری تھی تو ا س نے اپنی سبکی چھپانے کے لئے پاکستان کا ایک ایف 16 طیارہ مار گرانے کا جھوٹا دعوئٰ کیا تھا۔ پاکستان نے فورا اس جھوٹ کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے امریکی حکام کو اپنے F-16 طیاروں کا معائنہ اور گنتی کرنے کی دعوت دی۔ امریکی جائزے میں پاکستان کے F-16 طیاروں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں پائی گئی جس سے بھارت کی رسوائی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
آج پاکستان اسی مثال کی بنیاد پر کہہ رہا ہے کہ اگر بھارت اپنے دعووں پر یقین رکھتا ہے تو وہ بھی آزادانہ گنتی کے لیے تیار ہو۔ جنگی دعووں کا فیصلہ پریس کانفرنسوں سے نہیں بلکہ inventory، satellite imagery، wreckage، serial numbers اور آزادانہ verification سے ہونا چاہیے۔
رافیل کا معاملہ اس بحث کو مزید گہرا کرتا ہے۔ فرانس کے لیے رافیل محض ایک جنگی طیارہ نہیں بلکہ اس کی دفاعی صنعت اور تزویراتی خودمختاری کی علامت ہے۔ مئی 2025 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں رافیل کے نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلانگر نے بعد میں تین بھارتی طیاروں،ایک رافیل، ایک سکھوئی اور ایک میراج 2000کے نقصان کے شواہد کا حوالہ دیا۔
امریکی حکام کے حوالے سے Reuters نے بھی رپورٹ کیا کہ پاکستانی J-10C طیاروں نے کم از کم ایک بھارتی رافیل مار گرایا۔ بعد کی Reuters رپورٹ نے واضح کیا کہ رافیل کا گرایا جانا دفاعی ماہرین کے لیے اس لیے غیر معمولی تھا کہ یہ فرانسیسی ساختہ طیارے کی جنگی ساکھ پر براہِ راست سوال تھا۔
یہاں امریکی کانگریس سے متعلق رپورٹ بھی اہم ہوجاتی ہے۔ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی، U.S.-China Economic and Security Review Commission، کی رپورٹ میں مئی کی لڑائی کے تناظر میں پاکستان کی چینی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال سے حاصل ہونے والی military success کا ذکر کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارتی Rafale طیارے مار گرائے جانے سے چینی دفاعی نظام کی بھی خوب تشہیر ہوگئی۔
امریکی حکام، امریکی کانگریسی رپورٹ، فرانسیسی عسکری و انٹیلی جنس ذرائع، بین الاقوامی میڈیا اور خود بھارتی عسکری قیادت کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف زاویوں سے اسی بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کو جنگ بھاری فضائی نقصانات اٹھانا پڑے اور جنگ میں شکست فاش ہوئی۔ ان تمام شہادتوں کے بعد تو نہ یہ پاکستانی دعویٰ رہا اور نہ اس ضمن میں پاکستانی دعوؤں پہ انحصار کرنے ضرورت پرتی ہے۔ حقائق دنیا والوں بلکہ خود بھارتیوں کی زبان سے بول رہے ہیں۔
اس کے باوجود بھارت کی جانب سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ پارلیمانی بحث کے دوران جب اپوزیشن کی طرف سے رافیل کے نقصانات سمیت طیاروں کی تعداد پوچھی گئی تو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے براہِ راست تعداد بتانے کے بجائے سوال کی نوعیت پر اعتراض کیا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی رافیل کے نقصانات کی تعداد جاننے کا سوال اٹھایا تھا۔بھارتی سیاسی حلقوں میں یہ سوال صرف کانگریس تک محدود نہیں رہا۔ بی جے پی کے سابق رہنما سبرامنیم سوامی، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ راجا اور دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی حکومت سے جنگی نقصانات کی تفصیلات طلب کیں۔ یوں معاملہ پاکستان بمقابلہ بھارت کے بجائے بھارت کے اندر بھی شفافیت بمقابلہ پردہ پوشی کی بحث بن گیا۔
دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی جیسے بھارتی ماہرین نے بھی جنگ کے نتائج اور بھارتی فضائی نقصانات پر مسلسل سوالات اٹھائے۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ جب مخالف ملک کے دعوے کو مسترد کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کے عسکری ماہرین، سیاسی رہنما اور فوجی افسران مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں تو ریاستی بیانیے کی ساکھ خود متاثر ہونے لگتی ہے۔
دوسری طرف عالمی دفاعی مارکیٹ نے بھی مئی 2025 کے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں Dassault Aviation کے حصص میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی جبکہ J-10 بنانے والی Chengdu Aircraft Corporation کے حصص میں تیزی آئی۔ Financial Times نے رپورٹ کیا کہ Chengdu کے حصص دو دن میں 40 فیصد سے زیادہ بڑھےکیونکہ پہلی مرتبہ چینی J-10 کے حقیقی جنگی استعمال اور اس کے رافیل کو مار گرانے نے عالمی دفاعی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔
اور اب، جنگ کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، جنرل انیل چوہان کا کیرانہ ہلز سے متعلق نیا بیان سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق ایک لوئٹرنگ میونیشن ممکنہ طور پر اپنے ہدف کی تلاش میں ناکامی کے بعد کیرانہ ہلز جا گرا۔ یہ وضاحت خود ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر جنگ کے واقعات اتنے واضح تھے تو ڈیڑھ سال بعد نئی وضاحتوں کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
اسی لیے پاکستان کا یہ مؤقف وزن رکھتا ہے کہ جنگی تاریخ کو بعد از وقت بیانات سے دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا۔
اب اصل مقابلہ دعووں کا نہیں، شواہد کا ہے۔
پاکستان نے جنگ کے فوراً بعد اپنے دعووں کے ساتھ مقامات، ملبے اور دیگر شواہد پیش کیے۔ کسی ملک یا متعلقہ بین الاقوامی ادارے میں ان شواہد سے انکار کیا ور نہ چلینج۔ اس جنگ کا حتمی فیصلہ شاید ابھی مزید شواہد کا منتظر ہو لیکن ایک بات اب پہلے جیسی نہیں رہی کہ بھارتی طیاروں کے نقصانات کا سوال محض پاکستانی دعویٰ نہیں رہا۔ اس کے شواہد بین الاقوامی میڈیا، امریکی حکام، امریکی کانگریسی رپورٹ، فرانسیسی عسکری ذرائع، خود بھارتی عسکری قیادت، بھارتی سیاسی حلقوں اور دفاعی ماہرین کے بیانات تک پھیل چکے ہیں۔اور یہی شاید معرکۂ حق کے بعد جاری اصل معرکہ ہے۔میدانِ جنگ میں جو کچھ ہوا، بھارت کی طرف سے اسے بیانیے کی دھند میں چھپانے کی کوشش۔لیکن دھند کتنی ہی گہری ہو، ملبہ اپنی شناخت رکھتا ہے، ٹیل نمبر اپنی کہانی سناتا ہے، سیٹلائٹ تصویر جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ آخرکار اسی فریق کی بات مانتی ہے جس کے پاس قابلِ تصدیق ثبوت ہوں۔







