مضامین

عیدالاضحی اورفلسفہ تسلیم و رضا

محمد فاروق رحمانی

بقر عید یا جس کو قربانی کا فیسٹیول بھی کہتے ہیں، اصل میں اسلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فلسفہ تسلیم و رضا کی کامل تصویر ہے، جو سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے بعد دنیا پر بھیجنے جانے والے انبیاءکرام کے سلسلے سے گزرتے ہوئے امام الانبیاء محمد مصطفٰی احمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نبوت و رسالت پر اختتام کو پہنچی۔ سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے فرزند سیدنا اسماعیل ع س نے رہتی دنیا تک عالم انسانیت کو حکم خدا وندی کے مطابق ایمان، تسلیم و رضا اور قربانی کا سبق پڑھایا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دنیا میں مسلمانوں اور ان کے ریاستی حکمرانوں کے درمیان اس سبق کو عملانے کے مسئلے پر کافی بعد اور فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اس راستے پر چلتے ہوئے قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ ان کے بہت سارے حکمران متوازی راستے پر جارہے ہیں، جس کی ایک مثال فلسطین کی آزاد ریاست اور مسجد اقصی ا کی آزادی کا سوال ہے۔ مختلف ابراہیمی عقائد اور سیاسی و جمہوری نظریات رکھنے والے عوام قریب قریب تمام ممالک میں سڑکوں پر ریلیاں نکالتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو، اسرائیل تمام مقبوضہ علاقے خالی کرے، اس کے حکمرانوں کو جنگی مجرم قرار دیا جائے اور فلسطین کی ایک آزاد و خودمختار ریاست قائم کردی جائے۔ لیکن پھر بھی اس عالم گیر مطالبے کو دبایا جارہا ہے، بھوک، پیاس، قحط اور بیماریوں اور بمباریوں اور میزائلوں کی بارش سے مظلوم فلسطینیوں کو تڑپایا جارہا ہے، جبکہ مسلم حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں۔
بھارت نے 1989سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے ہیں ، 5 اگست 2019ئکے بعد سے مقبوضہ ریاست میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتظامی اور قوانین کی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو قبرستان بنادیا گیا ہے، جو زندہ ہیں وہ زندہ لاشیں ہیں، زبانوں پر تالے چڑھایے گیے ہیں ہزاروں لوگ جیلوں میں سخت گیر قوانین کے تحت بند ہیں اور خطرناک جھوٹے مقدمات میں اسیر ہیں۔ اس کے علاوہ 1990 کے عشرے میں جتنے مرد اور خواتین سیاست دان گرفتار کیے گیے تھے ، وہ بھی دور و دراز جیل خانوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جبکہ ان کے گھر اداس ہیں۔ مسلم حکمرانوں کو ان تمام مسائل کی متوجہ ہونا پڑے گا اور مسئلہ کشمیر کو مسلمہ قراردادوں، عوامی خواہشات کے تابع حل کرنے کے لئے سہ فریقی مذاکرات پر عمل کرنا ہوگا۔ ریاست جموں وکشمیر ایک قدیم ریاستی اکائی کا نام ہے اور ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے سے اس تنازعے کا حل نکالنے کے لئے کشمیری عوام کے مسلمہ نمائندوں کے ساتھ فی الفور سہہ فریقی مذاکرات شروع کردیے جائیں۔مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ خواب خرگوش سے بیدار ہوں ،عوام کی نبض پر ہاتھ رکھیں اور عوامی چلینجز کا جواب فلسفہ عید یعنی تسلیم و رضا کی بنیاد پر دیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button