مقبوضہ جموں و کشمیر

وعدے پورے نہ ہونے پر لداخ کے عوام مایوس اور حیران ہیں:سونم وانگچک

لہہ: لداخ کے رہنماوں اور بھارتی وزارتِ داخلہ کے حکام کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ مذاکرات کے نتائج پر خطے کے عوام بہت مایوس، ناراض اور حیران ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وانگچک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں بھارتی حکومت کے رام راجیہ کے نظریے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیوں نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا ہم کس قسم کے رام راجیہ کی بات کر رہے ہیں؟ اس اصول کا کیا ہوا کہ ’وعدہ پورا کرنے کے لیے جان چلی جائے، لیکن وعدہ نہ ٹوٹے‘؟ انہوں نے کہاکہ ہم دشمن ممالک کے خلاف لڑیں گے،ہم نے ہر جنگ میں حصہ لیا ہے، لیکن جب ہمارے اپنے ملک کی حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے تو ہم کیا کہیں؟ ہم کہاں جائیں؟
وانگچک نے دہلی کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2019 میں لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کے بعد عوام کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہاں جمہوری طرزِ حکمرانی بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مئی میں وزارتِ داخلہ کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے تھے۔ وعدے کیے گئے تھے کہ ایک خصوصی اسمبلی کے ذریعے جمہوریت بحال کی جائے گی جس کے تحت چیف سیکریٹری سمیت پورا انتظامی ڈھانچہ کام کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھٹے شیڈول کے بجائے آرٹیکل 371 کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
وانگچک نے مئی میں ہونے والے مذاکرات کے تناظر میں حالیہ بات چیت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بہت زیادہ اختلافات پائے جاتے ہیں۔انہوں نے مذاکرات سے کچھ دیر قبل لہہ اپیکس باڈی (LAB) کے رہنماو¿ں کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے لداخ کے بارے میں چین کے بیانات کی مذمت کی تھی۔
وانگچک نے کہامیں نے ہمیشہ کہا ہے اور دوبارہ کہوں گا کہ چین کو لداخ کے بارے میں تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ درحقیقت ہم ایسے بیانات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ہمارا پڑوسی ملک تبت ہے، چین نہیں۔ مجھے بتائیں کہ چین تبت کو کب خالی کرے گا اور اسے ہمارے تبتی بھائیوں اور بہنوں کے حوالے کرے گا؟تاہم انہوں نے پریس کانفرنس کے بعد پیش آنے والی صورتِ حال کو حیران کن قرار دیا۔انہوں نے کہاچین ایک دشمن ملک ہے، لیکن اس اجلاس میں ہماری اپنی حکومت نے کیا کیا؟

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button