سرینگر اور کپواڑہ میں احتجاجی مظاہرے

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں دیلی ویجر ورکرز کی بڑی تعداد نے ریگولرائزیشن اور کم سے کم اجرت ایکٹ کے نفاذ کا مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین لال چوک پر جمع ہوئے اورانہوں نے مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مارچ کو ناکام بنا دیا۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ جوائنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد احمد پرے نے احتجاج کی قیادت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہاکہ حکومتی ان کی حالت زار کو مزید ابتر کر رہی ہے ۔ انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج میں مزید شدت لائیں گے گی۔بعض کارکنوں نے احتجاج کے دوران محکمے کے دفتر کا گیٹ توڑنے کی بھی کوشش کی۔
ادھر کپواڑہ میں رہائشیوں نے رمضان المبارک کے دوران بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ کپواڑہ مین ٹائون، لولاب، تریہگام، کرالپورہ اور ہندواڑہ سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے ۔ مقامی لوگوں نے سحر اور افطار کے اوقات میں بھی بجلی فراہم کرنے میں ناکامی پر قانبض انتظامیہ پرکڑی تنقید کی۔






