کشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے کشمیری نوجوان کی پی ایس اے کے تحت نظربند ی غیر قانونی قرار
سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طوپر نظربند ایک کشمیر ی نوجوان کی نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چیف جسٹس ارون پلی اور جسٹس راجیش اوسوال پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سرینگر کے رہائشی شارق احمد بنگرو کی کالے قانون پی ایس اے کے تحت نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت کی سماعت کی ۔ بنگرو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ایس ٹی حسین اور ایڈوکیٹ ندا نذیر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرینگر نے 5ستمبر 2024کو ان کے موکل کی حتیاطی نظر بندی کا حکم جاری کیاتھا۔بنچ نے دونوں اطراف کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد شارق احمد بنگرو کی پی ایس اے کے تحت غیر قانونی نظربندی کالعدم قراردیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو اسکی رہائی کا حکم جاری کیا۔





