سجاد کرگلی کی طرف سے عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر پابندی کی شدید مذمت

کرگل:بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے کرگل کے ممتاز سیاسی رہنما اور سماجی کارکن سجاد کرگلی نے بھارتی وزارت داخلہ کی طر ف سے عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر 5سال کی پابندی کی شدیدمذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے گزشتہ دنوں میرواعظ عمر فاروق کی زیر قیادت عوامی مجلس عمل اور مسرور عباس انصاری کی سربراہی میں قائم اتحاد المسلمین پر کشمیریوں کے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔سجاد کرگلی نے ایکس پر ایک پیغام میں کہاکہ ان سیاسی جماعتوں کو غیر قانونی قراردینے کے مودی حکومت ے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور دیگر فریقوں پر زوردیاکہ وہ اس سلسلے میں فوری طورپر مداخلت کریں۔ انہوں نے بھارت سے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے آئینی حقوق اور جمہوری آزادی مجروح ہوتے ہیں۔سجاد کرگلی نے میرواعظ عمر فاروق اور مسرور انصاری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرمیں پائیدار امن صرف شہری آزادیوں کے تحفظ اور آئینی حقوق کے احترام سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔








