بھارت

ہندوتوا مود ی حکومت کے دور میں بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ مسلسل جاری

ریاست اڑیسہ کی مسیحی برادری پر انتہا پسند ہندوئوں کے حملوں میں اضافہ

نئی دلی:
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔بھارت میں مسلمان، مسیحی برادری اور دیگر اقلیتیں مسلسل ہندوانتہاپسندوں کے نشانے پر ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کے دوراقتدار میں انتہا پسندہندوئوں کو اقلیتوں کے خلاف انتقامی کارروائی کی کھلی چھوٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے بھارت بھر میں اقلیتوں کی جان و مال اور مذہبی مقامات کو مسلسل خطرہ لاحق ہے ۔بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بھارتی ریاست اڑیسہ کی مسیحی برادری پر انتہا پسند ہندوئوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اڑیسہ کے ضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کیا گیا، ہندوتوا غنڈوں کے بہیمانہ حملے میں 28افراد شدید زخمی ہوئے۔انہوں نے کہاکہ مودی کے بھارت میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ڈاکٹر اشوک سوین نے مزیدکہا کہ حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی، اقلیتوں کیخلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے بھارتی جریدے نیوز ریل ایشیا کی تحقیقاتی ٹیموں نے عیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے۔اطلاعات کے مطابق اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔نیوز ریل ایشیا کے مطابق رواںسال مارچ سے اپریل کے دوران تین فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے اڑیسہ کے تین اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی۔ ضلع نابرانگپور میں 2022سے 2025تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ عیسائی خاندانوں کو اپنے مردوں کی تدفین سے روکا گیا، ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔ ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولا، خواتین اور بچیوں پر حملہ جبکہ دو پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔نیوز ریل ایشیا کے مطابق ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کو تشدد سے زخمی کیا اور خواتین کی چادریں پھاڑ دیں، مسیحیوں کی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی۔ بھارتی جریدے کے مطابق شکایات کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ بھارتی جریدے کرسچینٹی ٹوڈے کے مطابق ریاست اڑیسہ فرقہ وارانہ تشدد کے دہانے پر ہے، ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا ہے اور اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button