بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کوآج کے کربلا میں تبدیل کردیا ہے: رپورٹ
قابض بھارتی فورسز نے جنوری 1989سے رواں برس جون تک 96ہزار 4سو 54کشمیری شہید کیے

اسلام آباد:بھارت کی بی جے پی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے حقوق چھین کر اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بناکر مقبوضہ جموں و کشمیر کو آج کے کربلا میں تبدیل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیری عوام کے لیے جدید دور کا یزید ہے۔ رپورٹ میں بھارت کی جابرانہ حکومت کو یزیدی حکومت سے تشبیہ دی گئی ہے جو کشمیریوں کومسلسل بنیادی حقوق سے محروم کررہی ہے اور معصوم کشمیریوں پر بے پنا ہ مظالم ڈھارہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہر دن عاشورہ ہے اور ہر جگہ کربلا ہے۔رپورٹ میں جدوجہد آزادی میں کشمیری عوام کو درپیش مشکلات اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بہادر کشمیری بھارتی قبضے سے آزادی کے اپنے جائز مقصد کے لیے عظیم قربانیاں دے کر جذبہ کربلا کی یادتازہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیوں کے خلاف ڈٹے رہنے والے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے حقیقی علمبردار ہیں۔ کربلا سے کشمیریوں نے ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی حکام کے آلہ کاروں کی مذمت کی گئی اور انہیں”یزید کے ساتھی“قرار دیا گیا جو کشمیری عوام کو دبانے کی بھارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی”مشکلات کے باوجود ظلم کے خلاف ڈٹے رہنے“کے کربلا کے پیغام کی توثیق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے بھارتی بربریت کے خلاف کشمیریوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ آزادی کے مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کشمیری امام حسین رضی اللہ عنہ کے سچے پیروکار ہیں،وہ بھارتی جبر کے خلاف مزاحمت سے کربلا کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ میںکہا گیاکہ گزشتہ 37 برس کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں، تشدد، اور املاک کی تباہی اور ضبطی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا۔ قابض بھارتی فورسز نے جنوری 1989سے رواں برس جون تک 96ہزار 4سو 54کشمیری شہید کیے،اس عرصے کے دوران 1لاکھ 76ہزار 4سو 55کشمیری گرفتار کیے گئے،1لاکھ 10ہزار 5سو59مکانات اور دیگرعمارتیں تباہ کی گئیں،1989سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22ہزار 9سو83خواتین بیوہ جبکہ1 لاکھ 7 ہزار9 سو83بچے یتیم ہوئے۔بھارتی فورسز اہلکاروںنے اس عرصے کے دوران 11ہزار 2سو67کشمیری خواتین کو بے حرمتی ، آبروریزی کا نشانہ بنایاہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سے کشمیریوں کی زندگی خاص طور پر معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بدحال ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت حریت رہنماﺅں ، کارکنوں ، حقوق کے کارکنوں ، علمائ، وکلا ، صحافیوں ، طلباءسمت پانچ ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میںبند ہیں۔نظربند افراد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، سید شکیل یوسف، سید شاہد یوسف، مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی، ظفر اکبر بٹ، محمد رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈو وکیٹ میاں عبدالقیوم، ظہور احمد بٹ، محمد حسین بٹ، سلیم یاسین بٹ، ، محمد حسین بٹ، فیاض حسین جعفری، فردوس احمد شاہ، عبدالاحد پرہ، عمر عادل ڈار، فیروز عادل زرگر، داو¿د زرگر، نور محمد فیاض، انسانی حقوق کے کارکن، خرم پرویز، محمد احسن اونتو اور دیگرشامل ہیں۔
کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدترین بھارتی مظالم اور ظلم وستم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد پورے عزم وہمت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔








