پاکستان کے بعد بنگلہ دیش مودی حکومت کے نشانے پر
مودی حکومت اورگودی میڈیا بنگلہ دیش میں انتشار پھیلانے میں مصروف
نئی دلی:بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت اور گودی میڈیا مذہب کی آڑ میں بنگلا دیش میں انتشار پھیلانے کی سازش میں مصروف ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے ذریعے دہشتگردی پھیلانے کے بعد اب بنگلا دیش اسکے نشانے پر ہے۔ مودی حکومت کے گودی میڈیا کی بنگلا دیش میں ہندو مظلومیت کی آڑ میں مسلم مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ مودی حکومت کی بنگلا دیش میں مذہبی بنیادوں پرلوگوںکو تقسیم کرکے مداخلت کا جواز پیدا کرنے کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے۔ بنگلا دیش کی ایک پرائیویٹ تنظیم ریومر سکینرنے گودی میڈیا کا اس ساز ش کو بے نقاب کیا ہے ۔ریومر سکینر کے مطابق بھارتی میڈیا نے مٹفورڈ مرڈر کیس میںمقتول سوہگ کو دانستہ طور پر ہندو ظاہر کیا جبکہ لعل چند میاں عرف سوہگ دراصل ایک مسلمان سکریپ ٹریڈر تھا۔ بھارتی میڈیا نے اسے دانستہ طورپر ہندو ظاہر کرنے کی کوشش کی تاکہ مذہب کی آڑ میں عوام کو گمراہ اور انتشار پیدا کیاجاسکے۔ سوہگ کو9جولائی کو ڈھاکا میں بہیمانہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔بھارتی میڈیا نے جان بوجھ کر سوہگ کا مکمل نام اور اسکے والد ایوب علی کا نام ظاہر نہیں کیا تاکہ عوام کو گمراہ اور بنگلا دیش میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو ہوا دی جاسکے ۔







