آر ایس ایس کے سابق رکن کا پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے اور بھارت میں بم دھماکوں کا انکشاف
تحریر: ارشد میر
ہندو انتہاء پسندوں کی ماں،راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سابق رکن یشونت شنڈے نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ آر ایس ایس، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے سینئر رہنماؤں نے نہ صرف بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لیے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی بلکہ ایک گروہ کو پاکستان میں عام شہریوں پر حملے کے لیے بھی تیار کیا گیا تھا۔
آزاد بھارتی خبر رساں ویب سائٹ دی وائر کو دیے گئے انٹرویو میں شنڈے نے بتایا کہ 2000 میں آر ایس ایس رہنما اندریش کمار نے انہیں مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ کے ایک گروپ سے متعارف کرایا جس نے فوج سے ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی۔ منصوبے کے تحت اس گروہ کو پاکستان بھیج کر شہری آبادی کو نشانہ بناناتھا۔ ساتھ ہی اس کو بھارت میں ٹائم بم تیار کر کے عوامی اجتماعات، بالخصوص مسلم شادیوں کو نشانہ بنانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
شنڈے نے کہا کہ 2004 سے 2008 کے دوران انہی شدت پسند عناصر نے کئی مہلک دھماکوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کیا۔ اس نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ہزاروں جانیں ضائع کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور فرقہ وارانہ تقسیم کو بڑھانا تھا۔ شنڈے کے بقول:”یہ ایک گھناؤنی سازش تھی تاکہ ملک کو آگ میں جھونک دیا جائے اور اقتدار ہمیشہ انہی کے ہاتھ میں رہے۔”
اس نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں نے ماضی میں بھی مذہبی تنازعات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا، مثلاً 1989 میں ایودھیا کے مسئلے کو انتخابی نشستیں حاصل کرنے کے لیے اور بعد میں کشمیر کے تنازعے کو اٹل بہاری واجپائی کی سیاسی تقویت کے لیے بروئے کار لایا گیا۔
شنڈے نے ناندیڑ میں 2006 کے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا، جب بم تیار کرتے ہوئے دھماکہ ہوا اور آر ایس ایس کا ایک رکن مارا گیا۔ اس سانحے میں راکیش دھاوڑے اور روی دیو نامی ہندو دہشت گردوں کی نشاندہی بھی ہوئی۔ شنڈے کے مطابق پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ کرنل پروہت جیسے افراد "مہروں” کی حیثیت رکھتے تھے جنہیں اصل منصوبہ سازوں کو بچانے کے لیے قربان کیا جا سکتا تھا۔
یشونت شنڈے نے بتایا کہ وہ 1994 میں آر ایس ایس میں شامل ہوا اور اندرونی طور پر اس سازش کو روکنے کی کوشش کی، لیکن جان کے خطرے کے باعث کھل کر مخالفت نہ کر سکا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نئی تحقیقات کی اس کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس نے میڈیا کے ذریعے یہ انکشافات عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔
آر ایس ایس کے سابق دہشت گرد کے یہ انکشافات انتہائی سنگین ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تحقیق طلب بھی ہیں کیوں کہ ان میں پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے منصوبوں کا بھی ذکر ہے۔ آپکو یاد ہوگا کہ بھارت میں گذشتہ 30 برسوں کے دوران بے شمار واقعات پیش آئے جن کے بارے میں نہ صرف ان ہندو دہشت گر د جماعتوں بلکہ حکومتوں اور میڈیا نے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف پرپیگنڈہ کیا، بی جے پی جیسی جماعتوں نے سیاسی فوائد حاصل کئے اور اہم یہ کہ ان واقعات کے ردعمل میں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے کچھ چیدہ چیدہ واقعات کا یہاں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مسلمانوں کو نشانہ اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ہندو انتہاء پسند جماعتیں اور کارکن کس حد تک گئے اور کتنے بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں ان واقعات کو انجام دیا؟ ان واقعات کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، فوج و ایجنسیز اور حکومتی حلقوں کی اعانت اور سرپرستی کے بغیر ان کو انجام دینا ممکن نہ تھا۔
2002 میں گودھرا ٹرین میں آگ لگی۔ الزام مسلمانوں پر عائد کرکے گجرات کی مودی حکومت کی سرپرستی میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا، انکی املاک جلائی گئی، لاکھوں بے گھر کئے گئے اور خواتین کی آپروریزی کی گئی۔ اس کی بناید پر بی جے پی نے سیاسی فوائد سمیٹے، مودی کو ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ سے ملک کا وزیر اعظم بنادیا گیا اور جتنے مجرم پکڑے گئے ان کو پھر وقت کے ساتھ ساتھ بری کیا گیا۔
2004کاعشرت جہاں کو جعلی مقابلہ میں شہید کیا گیا اور پولیس نے اسے لشکرِ طیبہ کی دہشتگردی قرار دیا مگر بعد میں سی بی آئی اور عدالتی تحقیقات میں یہ ماورائے عدالت قتل ثابت ہوا۔
2005 میں سہراب الدین شیخ کو دہشتگرد قرار دے کر ماردیا گیا؛ بعد میں سی بی آئی نے جعلی انکاؤنٹر ثابت کیا۔
2006 میں مالیگاؤں دھماکے ہوئے۔ الزام لگایا گیا کہ یہ “پاکستانی حمایت یافتہ اسلامی تنظیموں” کا کام ہے، درجنوں مسلمانوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مگر بعدازاں 20013 میں این آئی اے اور مہاراشٹر اے ٹی ایس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ابھینؤ بھارت نامی ہندو انتہاپسند تنظیم، جس کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل پروہت اور سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر (موجودہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ) کر رہے تھے، ملوث تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اب ان دونوں کو بری کیا گیا۔
2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے ہوئے۔الزاملشکرِ طیبہ اور پاکستانی شہریوں پر عائد کیا گیا۔مگر پھر دوران تحقیقات آر ایس ایس کے لیڈرسوامی اسیمانند نے اعتراف کیا کہ ہندو انتہاپسند اس کے پیچھے تھے ۔ این آئی اے شواہد نے بھی ابھینؤ بھارت نیٹ ورک کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا۔
2007 ہی میں حیدر آباد میں مکہ مسجد دھماکہ ہوا۔الزام حرکۃ الجہاد الاسلامی پر لگایا گیا، مسلم نوجوانوں کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر پھر این آئی اے نے بعد میں پایا کہ اس کے پیچھے ہندو انتہاپسند گروہ تھے، تمام مسلم ملزمان بری ہوئے۔
2007 ہی میں اجمیر شریف درگاہ میں دھماکہ کیا گیا۔ الزام خودساختہ اسلامی دہشتگرد گروہوں پر دھرا گیا مگر 2017 میں این آئی اے نے ثابت کیا کہ ہندو انتہاپسند ملوث تھے؛ دیویندر گپتا اور بھاویش پٹیل کو سزا سنائی گئی۔
2013میں مظفر نگر میں لَو جہاد کےبیانیہ کے تحت ہندؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لئے ایک جعلی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ڈالا گیا جس میں مبینہ طور پر مسلمانوں کو ہندوؤں کو قتل کرتے دکھایا گیا60 سے زائد مسلمان شہید اور50 ہزار سے زائد بے گھر کئے گئے۔ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی نے اسکو کیش کرکے مغربی یوپی میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ملی۔ مگر آخر میں پتہ چلا کہ ویڈیو میں دکھایا جانے والا بھارت میں رونما ہوا ہی نہیں تھا۔
2020 کے دہلی قتلِ عام میں اقلیت کش شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرین کو تشدد کے منصوبہ ساز قرار دیا گیا مگر بعدازاں متعدد ویڈیوز اور گواہیاں سامنے آئیں جن میں ہندو انتہاپسندوں کی قیادت میں ہجوم اور بی جے پی رہنماؤں کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بڑھکاتے ہوئے ثابت ہوئے۔
پلوامہ حملہ بیانیہ (2019 میں پلوامہ حملہ میں 40 بھارتی فوجیوں کا الزام کشمیری مجاہدین پر عائد کرکے پاکستان پر فضائی حملے کئے گئے مگر پھر معلوم ہوا کہ یہ انٹیلیجنس کی ناکامی، مقامی سکیورٹی کی کوتاہی اور انتخابات میں سیاسی فائدے کی کوشش کا نتیجہ تھا بلکہ کشمیر کے اسوقت کے گورنر ستیاپال ملک نےاس میں حکومتی غفلت اور دانستہ لاپرواہی برتے جانےکا انکشاف کرکے بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔
مندر میں گوشت پھینکنے جیسے جھوٹے بیانیوں کے واقعات
2016 حیدرآباد میں ایک ہندو انتہاء پسند جماعت کے رکن نے بیگمالی بھگیا لکشمی مندر کے نیچے گوشت رکھا تاکہ رمضان کے دوران فرقہ وارانہ ہنگامہ کھڑا کیا جا سکے، لیکن پولیس نے منصوبہ ناکام بنا دیا۔
کیرالہ (2017(تیروواننت پورم کے قریب نموم علاقے میں، ایک بندے کو گرفتار کیا گیا جو شیو مندر کی حدود میں گوشت پھینک رہا تھا—جس نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے انتظامیہ اور میڈیا میں افواہیں پھیلائیں۔ یہ کارروائی BJP کے ایک رہنما کے بیٹے کے ساتھ منسلک “Kerala Catering” کمپنی کے ذریعے کی جا رہی تھی۔
تمل ناڑو (ممکنہ) ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک ہندوانتہا پسندنے بورقہ پہن کر گائے کا گوشت ایک ہندو مندر کے قریب پھینکنے کی کوشش کی — جو فرقہ وارانہ شورش بھڑکانے کے لیے تھا۔
جھارکھنڈ (2019) دکھیہ مہادیو مندری کے قریب گوشت کے ٹکڑے پھینکے گئے، جس سے مقامی لوگوں میں شدید احتجاج ہوا اور سڑک بلاک کرنے جیسی صورت حال پیدا ہوئی۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔
اتر پردیش کا ایک واقعہ (2022) تلگرام قصبے کے شیو مندر میں گوشت پھینکنے کی واردات ہوئی، جس پر تناؤ پیدا ہو گیا۔ حکومت نے متعلقہ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس افسران کو تبدیل کر دیا، اور مرکزی کردار (چنچل تریپیتھی) گرفتار ہواجس نے قصداً یہ کام پولیس چیف سے ذاتی دشمنی کی بنا پر کروایا تھا۔
مدھیہ پردیش، جاؤرا (2024 رات کے دوران دو افراد نے گائے کے اعضا مندر کی حدود میں پھینکے۔ پولیس نے انہیں گرفتار کیا اور معاملے کو “مذہبی جذبات کو مجروح کرنے” تک جا پہنچایا۔ وزیر اعلیٰ نے فوری امن کا مطالبہ کیا۔ (
دہلی، سنام وِہار (2024) عید الاضحیٰ سے قبل گائے کا سر ایک مندر کے قریب پھینکا گیا، اور ایک مقامی بی جے پی لیڈر نے پولیس کو دھمکی دی کہ اگر آپ اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی کارروائی نہ کریں، تو میں اس علاقے کے ہر مسلمان کو قتل کر دوں گا.
آسام (2025) کچھ علاقوں میں عید کے بعد گوشت کو عوامی جگہوں پر پھینکا گیا تاکہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا سکے—جس سے کشیدگی پیدا ہوئی اور انتظامیہ نے سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت میں ایک منظم مہم کے ذریعے نفرت کو ہوا دی جاتی ہے، مسلمانوں کو اجتماعی طور پر مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو انتخابات جیتنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف انصاف کا قتل ہوتا ہے بلکہ ملکی سلامتی کے اداروں کی غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھتے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی جمہوری ساکھ شدید متاثر ہوتی ہے، جبکہ اندرونِ ملک ہندو ووٹ بینک مزید مضبوط ہو کر بی جے پی کے اقتدار کو دوام بخشتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہندو جنونیت کا یہ عفریت کہاں تک جائے گا؟ کیا عالمی برادری کو اس سے وابستہ خطرات نظر نہیں آتے؟






