مضامین

ٹرمپ کے کچوکے اور چین کے چرن

تحریر: ارشد میر

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکا۔اوول آفس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے چھ جنگوں کو ختم کیا ہے جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بھی شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگتا تھا روس یوکرین جنگ کو ختم کرنا "سب سے آسان” ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہاکہ یہ سب سے مشکل معاملہ ہے اور ہم اس پر طویل عرصے سے بات کر رہے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہم دیگر تنازعات یعنی  بھارت وپاکستان کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

سوموار کو ہی  ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی بالواسطہ طور پر بھارت اور پاکستان کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا:
"
میں نے چھ ماہ میں چھ جنگیں ختم کی ہیں جن میں سے ایک ممکنہ ایٹمی تباہی بھی تھی۔ اس کے باوجود مجھے وال اسٹریٹ جرنل اور دوسرے ایسے لوگوں کی باتیں سننی پڑتی ہیں جنہیں کچھ علم ہی نہیں اور وہ مجھے بتاتے ہیں کہ میں روس یوکرین بحران میں سب کچھ غلط کر رہا ہوں۔ یہ ’سست جو بائیڈن‘ کی جنگ ہے، میری نہیں۔ میں صرف اسے روکنے کے لیے ہوں، اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے نہیں۔ یہ جنگ کبھی شروع ہی نہ ہوتی اگر میں صدر ہوتا۔ مجھے پوری طرح معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے ان لوگوں کے مشورے کی ضرورت نہیں جنہوں نے برسوں ان تنازعات پر کام کیا لیکن کبھی کچھ حل نہ کر سکے۔ یہ ’احمق‘ لوگ ہیں جن کے پاس نہ عقل ہے نہ سمجھ اور یہ صرف موجودہ روس،یوکرین بحران کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اپنے ہلکے درجے کے اور حسد کرنے والے ناقدین کے باوجود میں یہ کام مکمل کروں گا ،جیسا کہ ہمیشہ کرتا ہوں۔”

ٹرمپ کے اس بیان اور ٹوئیٹ کے اگلے روز یعنی منگل کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے یہی دھرایا کہ پاک بھارت جنگ بندی امریکہ نے کرائی ہے۔ پریس بریفنگ  کے دوران انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی طاقت کو بروئے کار لاکر دنیا بھر میں اتحادیوں، دوستوں اور مخالفین سے احترام منوایا ہے۔ ان کے مطابق یہ کردار نہ صرف روس اور یوکرین کے تنازع میں پیش رفت سے ظاہر ہوا بلکہ دنیا کے سات بڑے تنازعات کے خاتمے میں بھی دیکھا گیاجن میں بھارت اور پاکستان کا فوجی ٹکراؤ بھی شامل ہے۔لیویٹ نے کہا کہ اگر امریکی صدر نے اپنے عہدے کی طاقت اور دباؤ کو استعمال نہ کیا ہوتا تو بھارت اور پاکستان کا تصادم ایٹمی جنگ میں بدل سکتا تھا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات کو بطور دباؤ استعمال کرکے اس تنازع کو ختم کیا۔

یاد رہے کہ 10 مئی کو جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا  تھاکہ بھارت اور پاکستان نے واشنگٹن کی ثالثی کے بعد ایک "طویل رات” کی بات چیت کے نتیجے میں "فوری اور مکمل جنگ بندی” پر اتفاق کیا ہے، اس کے بعد سے وہ 40 سے زائد مرتبہ یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ گزشتہ جمعہ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنی سربراہی ملاقات کے دن بھی ٹرمپ نے چند گھنٹوں کے اندر بارباریہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ روکی اور ساتھ ہی نئی دہلی کی روسی تیل کی خریداری پر بھی گفتگو کی۔

تاہم بھارت  تیسرے فریق کی مداخلت اور ثالثی قبول نہ کرنے کے دیرینہ موقف کے پٹ جانے کی خجالت کے تحت   امریکہ کے اس کردار کی  اَن کھُلے انداز میں انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے براہِ راست مذاکرات کے ذریعے طے پایا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی  پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کسی عالمی رہنما نے بھارت سے آپریشن سندور روکنے کو نہیں کہا تاہم اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ کے باوجود وہ ٹرمپ کا نہ تو نام لیتے ہیں اور ناہی ان کے دعویٰ کی براہ راست نفی کرتے ہیں۔ بھارت کے متعدد مبصرین اور صحافی تصدیق کرچکے ہیں کہ جنگ بندی امریکہ ہی نے بھارت پر عائد بعض شرائط پر کرائی تھی اور مودی سرکار کا اس بارے میں مبہم اور غیر واضع موقف اس کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ مودی سرکار کے اس منافقانہ انکار پر ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کی  ترجمان ٹیمی بروس بھی کہہ چکی ہیں دنیا کو معلوم ہے کہ جنگ بندی امریکہ نے ہی کرائی ہے۔

دوسری جانب کیرولائن  لیویٹ نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھارت پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان کے مطابق صدر نے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے سخت عوامی دباؤ ڈالا اور بھارت سمیت دیگر ممالک پر عملی اقدامات کیے۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حالیہ انٹرویو میں بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ روسی تیل خرید کر منافع کے لیے دوبارہ فروخت کر رہا ہے یعنی جنگ و جدل اور قتل غارت کی معیشت سے فائدہ اٹھارہا ہے۔صدر ٹرمپ نے بھارت پر مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جس میں روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی ٹیرف بھی  بطور سزاء شامل ہے۔ یہ پابندیاں 27 اگست سے نافذ ہوں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، وائٹ ہاؤس اور وازرت خارجہ کے ترجمانوں اور دیگر وزراء اور عہدیداروں کی طرف سے متواطر آنے والے یہ بیانات  کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیتے کہ  پاک بھارت  جنگ رکوانے اور ان دونوں ملکوں کے مستقبل کے تعلقات کی ساخت میں امریکہ کا کلیدی کردار ہے۔

یہ بیانات جہاں  ایک طرف واشنگٹن کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں  تو دوسری جانب نئی دہلی کے دیرینہ مؤقف پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں جو ہمیشہ سے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرتا آیا ہے۔ لیکن مودی سرکار کے ابہام اور مبہم بیانات اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ امریکہ کی ثالثی کے بغیر جنگ بندی ممکن نہ تھی۔

عالمی میڈیا تصدیق کررہا ہے کہ ٹرمپ 10 مئی کےبعد سے  40 سے زائد بار یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرائی۔امریکہ کی پوری تاریخ میں تمام صدور نے اتنی بار مسلہ کشمیر، اسکی مرکزیت اور اسکی بنیاد پر  پاک بھارت کشیدگی  کے بارے میں بات نہیں کی جتنی بار ٹرمپ نے صرف گذشتہ چند ماہ کے دوران ہی کی۔ سفاری دنیا میں امریکہ جیسی سپر طاقت کے صدر کا کسی موضوع پہ بات کرنا بہت  اہم جانا جاتا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس معاملے پر واضح اور دوٹوک جواب سامنے نہیں آیا۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل اس کے اندرونی تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔وہ دہائیوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ کشمیر یا دیگر تنازعات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔ مگر اب دنیا اور خود بھارت کے متعدد لیڈر، صحافی، سیاسی و دفاعی تجزیہ کار تصدیق کرتے ہیں پاکستان پر  غلبہ اور اپنے موقف کو اور مضبوط کرنے کی دھن میں بھارت کو ہر محاذ پر ہزیمت اٹھانا پڑی اور الٹا نہ صرف مغلوب ہوا جس کی وجہ سے اس نے خود امریکہ اور پاکستان کے دورست ممالک بشمول سعودی عرب اور ترکی کے جنگ بندی کی درخواست کی بلکہ اسکے دیرنہ موقف یا پالیسیوں کے غبارے بھی پھٹ گئے۔ مود ی سرکار کا غیر واضع اور مبہم رویہ بجائے خود اسکی گواہی دیتا ہے۔

امریکی صدر سے لیکر وزراء، عہدیداروں اور ترجمانوں تک کے یہ مسلسل بیانات نئی دہلی کے لیے یقینا باعث پریشانی ہیں۔ وہ دنیا کو یہ  تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے فیصلے آزاد ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے تحت ہی اس کے قدم اٹھتے ہیں۔

بھارت کی عسکری اور سیاسی کے ساتھ ساتھ سفارتی بدحالی کا اندازہ لگا لیجئے کہ اس نے اب  سر تا  پیر  مکمل قلا بازی کھاتے ہوئے چین کی مریدی شروع کرتے ہوئے  17 سال بعدتائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کیا۔یہ اعلان گذشتہ روز  سرحدی مذاکرات کے 24ویں دور میں سامنے آیا جہاں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی میزبانی کی۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی چینی قیادت کو یقین دلایا کہ بھارت تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتا ہے۔ تجزیہ کار اسے "مجبوری کی شادی” قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی کسی اصول پر مبنی نہیں بلکہ مجبوری اور مصلحت کا نتیجہ ہے۔ یہ وہی بھارت  ہے جو پاکستان کے بعد چین کو بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے اپنی جنگی استعداد بڑھانے کے لئے یہ بہانہ کرتا رہا کہ اسے دو اطراف سے خطرہ ہے اور وہ بیک وقت دونوں( پاکستان اور چین )کے خلاف جنگ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔  وہی بھارت ،جو جنگِ مئی میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کی مخالفت کرتا رہا، اپنے سیاحوں کو وہاں جانے سے منع کرتا رہا تاکہ اسکو معاشی نقصان ہو حالانکہ ترکی آنے ولے بھارتی سیاحوں کی شرح 0.1 فیصد ہے، جبکہ دوسری طرف جس چین کے بنائے جہاز اور میزائل اس  جنگ میں استعمال ہوئے اور بھارتی دفاعی غرور کو زمین بوس کردیا اس چین کی مخالفت کرنے کی وہ جرات نہیں کررہا بلکہ اسکی خوشامد میں ٹخنوں تک جھک رہا ہے۔ مودی امریکہ اور چین کے خلاف ایک لفظ بھی بول نہیں رہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ایل اے سی پر کشیدگی، چینی درآمدات پر انحصار اور سرحدی دباؤ نے بھارت کو  چین کے چرنوں میں پڑنے پر مجبور کردیا۔

یہ پیش رفت بھارت کی دوغلی پالیسی کو مزید عیاں کرتی ہے۔ یہ تضاد اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوری اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے آگے بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں اسے کمزور نظر آتا ہے وہ اسکے خلاف  رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے اور جہاں اسے طاقت ور نظر آتا ہے یا  معاشی یا عسکری دباؤ کا سامنا ہوتا ہے وہاں پسپائی اختیار کر لیتا ہے۔

ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے خطے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت کا تیسرے فریق کی مداخلت کے خلاف دعویٰ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ مودی سرکار کی منافقت، ابہام اور سفارتی کمزوری عالمی برادری پر عیاں ہو گئی ہے۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button