
ہر سال 23 جون کو دنیا بھر میں "بین الاقوامی یوم بیوگان” منایا جاتا ہے۔ یہ دن اُن عورتوں کے لیے وقف ہے جو اپنے شوہروں کی موت یا گمشدگی کے بعد بے سہارگی، غربت اور معاشرتی تنہائی کا سامنا کرتی ہیں۔ لیکن جب بات مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی ہو، تو بیواؤں کی داستان نہ صرف ایک ذاتی المیہ ہے، بلکہ یہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت بھی بن جاتی ہے۔
❖ بھارتی مظالم کا شکار 23,000 کشمیری بیوائیں
1989 سے لے کر اب تک بھارت کے ریاستی جبر، جعلی مقابلوں اور اندھی ریاستی طاقت نے 23 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کو بیوہ بنا دیا ہے۔ ان خواتین نے صرف اپنے شوہروں کو ہی نہیں کھویا بلکہ اپنے خواب، آسرا اور مستقبل کی امیدیں بھی گنوا دیں۔
❖ "نیم بیوائیں” – ایک نہ ختم ہونے والا انتظار
بھارتی افواج کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کا ایک اور خوفناک پہلو "نیم بیواؤں” کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ایسی خواتین جن کے شوہر بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر لاپتہ ہو گئے، مگر آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ مقبوضہ کشمیر میں ایسی 2,000 سے زائد خواتین ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے اسی انتظار کی اذیت میں جی رہی ہیں کہ شاید ایک دن ان کا شوہر واپس لوٹ آئے۔
❖ درِد پورہ: بیواؤں کا گاؤں
ضلع کپواڑہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں "درِد پورہ” کشمیری المیے کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہاں کی تقریباً 200 خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر بھارتی فوج کی تحویل میں لے کر لاپتہ کر دیے گئے۔ اس گاؤں کو اب "بیواؤں کا گاؤں” کہا جاتا ہے۔
❖ ذہنی صدمات اور خاموشی کی قیمت
سالہا سال سے جاری اس بے بسی نے کشمیری بیواؤں اور نیم بیواؤں کو نہ صرف معاشی مشکلات میں جھونک دیا ہے بلکہ انہیں شدید نفسیاتی دباؤ اور ذہنی امراض کا بھی سامنا ہے۔ ان خواتین کو نہ انصاف ملا، نہ سچ جاننے کا حق۔ بھارت کی طرف سے ان جبری گمشدگیوں پر خاموشی مزید زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔
❖ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ جیسی قوتیں کشمیری بیواؤں اور نیم بیواؤں کی مسلسل چیخ و پکار کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہ خاموشی بھارتی ریاستی جرائم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔۔۔
بین الاقوامی یوم بیوگان کے اس دن، دنیا کو کشمیر کی بیواؤں کی چیخ سننی چاہیے۔ ان کی آواز دبانے کے بجائے عالمی انصاف کے اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت نوٹس لیں۔
کشمیری بیواؤں کی خاموشی ایک دن دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دے گی۔




