مودی حکومت بھارت کی تاریخ سے مسلم شخصیات ،انکے علمی ورثے کومٹانے کے درپے
دلی یونیورسٹی نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو بھارت مخالف قراردیکر انکا کلام نصاب سے نکال دیا

نئی دلی:نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہند و توا بھارتی حکومت ملک کی تاریخ سے مسلم شخصیات اور ان کے ثقافتی ،علمی وادبی ورثے کومٹانے کا مذموم عمل جاری رکھے ہوئے ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تازہ ترین اقدام میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والی دلی یونیورسٹی نے شاعر مشرق اور عظیم فلسفی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے کلام کو یونیورسٹی کے نصاب سے حذف کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔علامہ محمد اقبال، جنہوں نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا” جیسے لازوال ترانے سے برصغیر کے کروڑوںلوگوںکے دلوں کو گرمایا، آج اسی سرزمین میں انہیں "بھارت مخالف”قرار دیا جا رہاہے۔ دلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یوگیش سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ علامہ محمد اقبال نے1910میںیہ ترانہ ضرور لکھا تاہم بعد ازاں ان کی سوچ بھارت مخالف ہوگئی تھی۔ علامہ اقبال کی سوچ کو بھارت مخالف قراردینے کا اعلان یونیورسٹی کے سینٹر فار انڈیپنڈنس اینڈ پارٹیشن اسٹڈیز کے زیر اہتمام تقسیم برصغیرپاک و ہند کے یادگاری دن کے پروگرام کے دوران کیا گیا۔
پروگرام میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی تاریخ، اس کے اسباب اور نتائج پر گفتگو کی گئی۔وائس چانسلر یوگیش سنگھ نے مودی حکومت کے ہندوتوا نظریات کی ترجمانی کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی سوچ یہ ترانہ لکھنے کے بعد بدل گئی تھی لہذا اب انہیں یونیورسٹی میں پڑھانا مناسب نہیں۔
تاہم سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تاریخی حقائق سے نظریاتی اختلاف رکھنے پر کسی مفکر کے کلام کو نصاب تعلیم سے ہٹا دینا درست اقدام ہے ؟ کیا یہ اقدام نئی نسل کو ذہنی غلامی کی طرف دھکیلنے کی ایک سازش نہیں ؟ماہرین کے مطابق علامہ اقبال کو نصاب سے نکالنا صرف ایک علامتی قدم نہیں بلکہ اس کا مقصدبھارت کی تاریخ سے مسلمانوں کی علمی و تہذیبی شناخت کو بتدریج مٹاناہے۔علامہ اقبال جیسی آوازوں کو نصاب سے نکالنا تعلیمی نہیں بلکہ نظریاتی امتیاز کے مترادف ہے ۔یہ اقدام صرف علامہ اقبال کے کلام کو نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک قوم اور تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہے۔








