مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں موبائل، انٹرنیٹ سروسزبندہونے سے لوگ خوف و ہراس کا شکار

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں آج شام 4 بجے کے قریب موبائل، انٹرنیٹ، براڈ بینڈ اور فون سروسز اچانک بند ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں مواصلاتی بلیک آئوٹ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کچھ صارفین نے رابطے مکمل طور پر ختم ہونے کی اطلاع دی جبکہ کچھ نے انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور مسلسل رکاوٹوں کی شکایت کی، جس سے مواصلاتی رابطہ تقریبا ناممکن ہو گیا۔حکام نے دعویٰ کیا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور عوام سے نہ گھبرانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ٹیمیں زمین پر موجود ہیں۔ تاہم فون کالز نہیں ہو رہیں اور تمام بڑے نیٹ ورکس پر انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں جس سے پہلے ہی شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔سرحدی اضلاع کے لوگوں نے کنٹرول لائن کے پونچھ سیکٹر سے متصل اوڑی-گلمرگ علاقے میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ساتھ بھارتی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کی بھی اطلاع دی ہے۔ فوجی نقل وحرکت سے لوگوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں فوجی تعیناتی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاری کر رہی ہے جس میں راشٹریہ رائفلز کو اندرونی علاقوں سے واپس بلانے اور کنٹرول لائن پر دوبارہ تعینات کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اس سے نئی دہلی کی ممکنہ مہم جوئی اور پاکستان کے تئیں اس کے جارحانہ عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آئوٹ، فورسز کی نقل و حرکت اور پیٹرول، ادویات، بجلی اور دیگراشیائے ضروری کی قلت کشمیری عوام کے خلاف مودی حکومت کے نفسیاتی حملوں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جن کا مقصد مقبوضہ علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button