پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، ایس سی او کانفرنس اعلامیہ میں جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی مذمت
تیانجن:
چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ مملکت کی کانفرنس کے اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں دہشگردوں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے جو پاکستان کو بڑی سفارتی فتح ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید کی گئی ہے۔دہشتگردی سے متعلق پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک رہا ہے جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ اعلامیہ میں ہرقسم کی دہشتگردی کو قابل مذمت قرار دیاگیا ہے جو کہ پاکستان کے موقف کی ہی تائید ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔اعلامیہ میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں سکول کے بچوں کی بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، عالمی انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اور موثر کارروائی کی جائے، افغانستان میں پائیدار امن کیلئے تمام نسلی سیاسی گروہوں کے نمائندو کی شمولیت سے حکومت قائم کی جائے۔ایس سی او اعلامیے میں مزیدکہا گیا کہ ہر قوم کو آزادی سے اپنے سیاسی، سماجی اور اقتصادی راستے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے، دہشتگرد گروہوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، پاکستان ہمیشہ سے دہشتگردی میں سرحد پار سہولت کاری کے شواہد دنیا کے سامنے پیش کرتا آیا ہے۔جعفر ایکسپریس اور خضدار میں سکول کے بچوں کی بس پر حملے سمیت دیگر دہشتگردی کے واقعات میں بھارتی کردار کو شواہد کے ساتھ ثابت کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے 24اپریل کے اعلامیے میں بھی پاکستان نے پہلگام واقعہ پر بھارت کو آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس کا جواب آج تک بھارتی حکومت نے نہیں دیا۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں پاکستان کے دہشتگردی سمیت مختلف تنازعات کے حوالے سے موقف کی تائید کی گئی ہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آج پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے۔




