مضامین

بھارت توانائی کے بحران اور سفارتی تنہائی کی لپیٹ میں

تحریر: ارشد میر

بھارت کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔سعودی عرب اور عراق کی طرف نے پیٹرول کی فراہمی بند کردی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی کمپنی آرامکو اور عراق کی سومو نے بھارتی کمپنی نیارا انرجی کو خام تیل کی فراہمی بند کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی سے نیارا ، جو بھارت و روس کی مشترکہ آئل ریفائنری اور مارکیٹنگ کمپنی ہے،کو سعودی عرب اور عراق سے کوئی تیل نہیں ملا اور اگست میں کمپنی نے صرف روسی تیل پر انحصار کیا۔حالانکہ وہ معمول کے مطابق ہر ماہ 30 لاکھ بیرل درآمد کرتی تھی۔ یورپی یونین کی روسی کمپنیوں پر پابندیوں کے باعث نیارا کو تیل خریداری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گجرات میں واقع یہ ریفائنری اس وقت صرف 70 سے 80 فیصد استعداد پر چل رہی ہے۔ روسی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ روسنیفٹ نیارا کو براہ راست تیل فراہم کر رہا ہے تاہم عالمی شپنگ کمپنیوں کی پابندیوں کے باعث نیارا ’’ڈارک فلیٹ‘‘ کہلانے والے غیر رجسٹرڈ جہازوں پر انحصار کرنے لگی ہے۔ جولائی میں کمپنی کے سی ای او کے استعفے نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے توانائی کی فراہمی کا ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی سردمہری کے بعدمودی سفارتی بھیک مانگنے کی مہم  پر ہیں۔انکے جاپان، چین اور دیگر علاقائی ممالک کے حالیہ دورے امریکی انتظامیہ کی طرف سے بھارت پرٹیرف میں 50فیصد تک اضافے کے اثرات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے ۔امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف بڑھا دیا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد اور جمہوری کمزوریوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی ہے۔ یورپی طاقتوں کے محتاط رویے نے بھی بھارت کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اس پس منظر میں مودی  کاجاپان، آسیان اور جنوبی کوریا کا رخ کر نا عالمی سطح پر تنہائی  کو کم اور پاکستان کے خلاف ناکام ’’آپریشن سندور‘‘ کی خفت چھپانے کی کوشش ہے۔ تاہم ان دوروں میں نہ کوئی بڑا معاہدہ طے پایا اور نہ ہی عملی تعاون بڑھ سکا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات طاقتور شراکت داری نہیں بلکہ محض سہارا ڈھونڈنے کی مایوس کن کوشش ہیں۔ مودی، جو کبھی بھارت کو ابھرتی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتے تھے، آج اپنی پوزیشن بچانے کے لیے ملکوں ملکوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں۔ گودی میڈیا انہیں عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتا ہےمگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو یکے بعد دیگرے سفارتی دھچکوں کا سامنا ہے اور مودی حکومت کی کمزوریاں مزید بے نقاب ہو رہی ہیں۔

بھارت کے لیے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے اس کی سفارتی اور معاشی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور عراق کی جانب سے خام تیل کی فراہمی کی بندش اور دوسری جانب امریکہ اور یورپ کی بڑھتی ہوئی سرد مہری نے مودی حکومت کو ایسے کونے میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ نہایت مشکل ہے۔ یہ دونوں خبریں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بھارت کے لیے عالمی برادری میں اب وہ اعتماد باقی نہیں رہا جس پر مودی سرکار فخر کیا کرتی تھی۔

توانائی کے بحران کا مسئلہ بھارت کے لیے کسی مالی یا تجارتی رکاوٹ سے بڑھ کر ایک تزویراتی دھچکا ہے۔ سعودی عرب اور عراق نہ صرف بھارت کے بڑے تیل سپلائرز ہیں بلکہ ان ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو ’’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ کہا جاتا تھا۔ ایسے میں یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ نئی دہلی کی پالیسیوں پر اب خلیجی دنیا بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ پابندی یورپی یونین کے دباؤ اور روسی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے سامنے آئی ہےلیکن دراصل اس کے پیچھے بھارت کی غیر متوازن خارجہ پالیسی اور موقع پرستی نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت ایک طرف روسی تیل سستا خریدنے کے چکر میں مغرب کو ناراض کرتا ہے اور دوسری طرف مغربی دنیا کو خوش کرنے کے لیے روس کے خلاف قراردادوں پر ووٹ  بھی دیتا ہے۔ یہ دوہرا معیار بالآخر اس کے اپنے گلے کا پھندا بن رہا ہے۔

توانائی کے شعبہ  میں "ڈارک فلیٹ” پر انحصار بھارت کے لیے ایک اور بدنامی کا سبب ہے۔ عالمی سطح پر غیر رجسٹرڈ جہازوں کے ذریعے تیل منگوانا غیر قانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ اور خفیہ ڈیلنگ سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل بھارت کے لیے نہ صرف مالی خطرات بڑھا رہا ہے بلکہ اس کی ساکھ کو بھی داغدار کر رہا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیارا انرجی کے سی ای او نے ایسے وقت میں استعفیٰ دیا جب کمپنی کو سب سے بڑے بحران کا سامنا تھا۔ یہ استعفیٰ دراصل اندرونی بدانتظامی اور دباؤ کی علامت ہے، جس سے بھارت کے توانائی ڈھانچے کی نازک صورتحال مزید عیاں ہوتی ہے۔

دوسری جانب مودی کی سفارتی یاترا کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اب دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ مودی، جو کبھی بڑے فخر سے بھارت کو ’’وشو گرو‘‘ قرار دیتے تھے، آج جاپان، آسیان اور چین کے در پر جا کر محض رسمی ملاقاتوں اور فوٹو سیشنز پر اکتفا کر رہے ہیں۔ یہ دورے کسی بھی بڑے تجارتی یا دفاعی معاہدے کا باعث نہیں بنے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کو اب سنجیدہ شراکت دار سمجھنے کے بجائے محض وقتی ضرورت کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

امریکہ کی جانب سے بھارت پر ٹیرف میں 50 فیصد اضافہ محض معاشی قدم نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔ واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت اب اس کا لاڈلا اتحادی نہیں رہا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقلیتوں کے خلاف تشدد اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں  ریاستی مظالم نے مغربی دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کرے۔ حتیٰ کہ یورپی پارلیمان میں بھی بھارت کے رویے پر بحث ہو رہی ہے جو مودی سرکار کے لیے ایک شرمندگی سے کم نہیں۔

یہ تمام صورتحال بھارت کی اندرونی سیاست پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ مودی سرکار پہلے ہی کسان تحریکوں، مہنگائی اور بے روزگاری اور پاکستان کے ہاتھوں جنگِ مئی میں   شکست کے حوالہ سے سوالوں کے طوفان میں گھری ہوئی ہے۔ گودی میڈیا کے ذریعے عوام کو خواب دکھانے کی کوششیں اب ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ جب عوام کو تیل، بجلی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا بوجھ سہنا پڑتا ہے اور جارحیت شکست میں بدل جاتی ہے  تو پروپیگنڈہ زیادہ دیر تک کارگر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کو ’’ناکام اور ناعاقبت اندیش‘‘ قرار دے رہی ہیں۔

خطے کے ممالک بھی اس بدلتی صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ چین، جو پہلے ہی لداخ اور اروناچل پردیش کے تنازعات پر بھارت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہے اب اس کی کمزوریوں کو مزید فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ بھارت کی سفارتی ناکامیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرے اور اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے۔ سعودی عرب اور عراق جیسے ممالک کی جانب سے بھارت کے ساتھ فاصلے اختیار کرنا پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے کہ مسلم دنیا اب دہلی کے ساتھ اندھی وابستگی برقرار رکھنے کو تیار نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھی یکطرفہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ روس اب بھی بھارت کو تیل فراہم کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلقات مکمل طور پر ’’مفاد پرستی‘‘ پر مبنی ہیں۔ روس بھارت کو صرف اس لیے برداشت کر رہا ہے کہ اس وقت اسے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بڑے خریداروں کی ضرورت ہے۔ لیکن جیسے ہی حالات بدلے، بھارت کو روس سے بھی وہ سہولت میسر نہیں آئے گی جو آج ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی سرکار نے دنیا بھر میں "سافٹ پاور” بنانے کی جو کوشش کی تھی وہ بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ یوگا، بالی وڈ ، شائننگ انڈیا، وشوء گرواور بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شور مچانے کے باوجود بھارت کو اب ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اندرونی طور پر غیر مستحکم اور بیرونی طور پر غیر معتبر ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جسے چند سال پہلے مغربی دنیا چین کے مقابلے میں توازن کے لیے آگے بڑھانا چاہتی تھی، لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ بھارت اپنی ہی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سعودی عرب و عراق کی جانب سے تیل کی بندش اور امریکہ و یورپ کی سرد مہری، محض وقتی خبریں نہیں بلکہ بھارت کی گرتی ہوئی حیثیت کے ٹھوس شواہد ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کا عندیہ ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیاں بھارت کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کر رہی ہیں۔ ایک طرف معیشت بحرانوں کی زد میں ہے اور دوسری طرف سفارتکاری تیزی سے ناکامی کی طرف جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گااور ممکن ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مزید پروپیگنڈہ اور ڈرامے رچانے پڑیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب بھارت کے جھوٹے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یوں بھارت کی موجودہ صورتحال ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتی ہے جو بظاہر ابھرتی ہوئی طاقت کے خواب دکھاتا رہا  لیکن درحقیقت اپنی ہی پالیسیوں اور ہٹ دھرمی کے باعث تنہائی اور مشکلات کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ مودی حکومت کی کمزوریاں نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے نئے چیلنج پیدا کر رہی ہیں۔ اگر نئی دہلی نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو وہ وقت دور نہیں جب بھارت محض ایک علاقائی طاقت کے بجائے ایک "تنہا اور کمزور” ریاست کے طور پر پہچانا جائے گا۔

 

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button