مقبوضہ جموں و کشمیر
سانحہ حول کے متاثرین36 سال بعد بھی انصاف کے منتظر

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سانحہ حول کو 36 برس گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے21 مئی 1990 کو میر واعظ مولوی محمد فاروق کوشہید کردیا تھا۔سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شرکت کی۔بھارتی فوج کی طرف سے ان کے جنازے کے شرکا پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 72 کشمیری شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین کے مطابق، جنازے کے مقام کی طرف جانے والی سڑکوں کو بھارتی فوج اور پیراملٹری اہلکاروں نے پہلے ہی بند کر دیا تھا۔حول قتل عام مقبوضہ کشمیرمیں جمہوریت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی واضح مثال ہے، جہاں بےرحَم بھارتی فوج نے ایک رہنما کےجنازے کے شرکا کو بھی نہیں بخشا۔






