
تحریر: ارشد میر
قابض بھارتی فورسز نے ضلع بانڈی پورہ میں ایک اور بے گناہ کشمیری شہری کو حراست کے دوران شہید کر دیا۔ حاجن کے میر محلہ سے تعلق رکھنے والے تین بچوں کے مزدور پیشہ والد ، فردوس احمد میر کو 13 راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے 11 ستمبر کو گرفتار کرکے فوجی کیمپ منتقل کیا تھا۔ ایک روز قبل اس کی تشدد زدہ لاش کنٹرول لائن کے قریب بونیار اوڑی میں دریائے جہلم سے ملیجس پر واضح تشدد کے نشانات موجود تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق شدید مارپیٹ اور دباؤ کے باعث اس کے گردے پھٹ گئے تھے۔
یہ ضلع بانڈی پورہ میں دو ہفتوں کے دوران دوسرا زیر حراست قتل ہے۔ اس سے قبل پولیس نے مقامی شہری ظہور احمد صوفی کو بھی اسی طرح شہید کیا تھا۔ فردوس احمد کے قتل کے بعد حاجن میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ مظاہرین نے انصاف اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم بھارتی قابضین نے شہید فردوس کی لاش کو اپنی تحویل میں لے کر علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا۔
بھارت کے بدترین جابرانہ تسلط سے متاثرہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت کا یہ ایک اور سانحہ ایک بار پھراس حقیقت کو واضع کرتا ہے کہ یہ کشمیر کے حالات کے دلدل میں پھنسے اور نفسیاتی بدحالی کے شکار بھارتی فوجی ہی نہیں جو کشمیریوں سے نفرت، عداوت اور شاسوت قلبی میں ان جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی ہے جس پر دہائیوں سے عمل ہورہاہے۔ مقبوضہ علاقہ میں قریبا 10 لاکھ بھارتی فوج محض ایک قابض فورس ہی نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ جبر بھی ہے جو کشمیری عوام کے وجود، ان کی زندگیوں اور ان کے حقِ خود ارادیت کو مٹانے پر معمور ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں زیرِ حراست قتل، جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل نئی بات نہیں۔ 1989 کے بعد سے اب تک 7400 سے زائد کشمیری ان ہتھکنڈوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں سے بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے جن پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا گیا۔ اگست 2019 کے بعد، جب مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے آئینی جارحیت کی، بھارتی پروپیگنڈا مشینری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں مصروف ہے کہ حالات "نارمل” ہیں، سیاحت بڑھ گئی ہے اور ترقی کے دروازے کھل گئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی چھ سالوں میں صرف بھارتی فورسز کے ہاتھوں 1034 کشمیری شہید کیے گئے جن میں 277 افراد یا تو زیرِ حراست یا پھر جعلی مقابلوں میں شہید کئے گئے۔ یہ اعداد و شمار خود اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں کہ تشدد ختم ہو گیا ہے یا امن قائم ہو گیا ہے۔
بانڈی پورہ میں ہونے والے حالیہ دو واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ ایک طرف فردوس میر کی لاش ملتی ہے اوردوسری جانب ظہور احمد صوفی کو پولیس کی حراست میں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ان کے پسماندگان کے آنسوؤں اورپرامن احتجاج کے جواب میں قابض انتظامیہ کی طرف سے صرف ایک ہی عمل دیکھنے کو ملتا ہے: غیر اعلانیہ کرفیو، میڈیا کی رسائی پر قدغن، اور سچ کو دبانے کی کوشش۔ حاجن میں عوامی احتجاج اس بات کا اعلان ہے کہ ظلم کے باوجود کشمیری عوام اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور وہ اس جبر کے خلاف مزاحمت ترک نہیں کریں گے۔ لیکن بھارتی حکمتِ عملی یہی ہے کہ ہر مزاحمتی صدا کو لاٹھی، گولی اور قید کے ذریعے دبایا جائے۔
اس سے قبل بھی 28 اگست کو بانڈی پورہ کے گریز علاقے میں بھارتی فوج نے ایک جعلی مقابلے میں دو کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔ یہ جعلی مقابلے دراصل ایک مخصوص بیانیہ کو تقویت دینے کے لیے رچائے جاتے ہیں تاکہ بھارت دنیا کو دکھا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے جبکہ اصل میں یہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے اور اسے دہشتگردی سے جوڑنے کی ایک منظم سازش ہے۔ بھارتی ریاستی ادارے اور میڈیا مل کر اس جھوٹ کو پھیلاتے ہیں مگر سچ ہر بار شہیدوں کے جنازوں، زخمیوں کے زخموں اور شہادت گاہوں کے مناظر سے عیاں ہو جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خود بھارتی وزارتِ داخلہ نے پارلیمنٹ میں تسلیم کیا ہے کہ صرف پانچ سالوں میں 33 زیرِ حراست اموات کے واقعات درج ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف سرکاری ریکارڈ ہیں جبکہ زمینی حقیقت کہیں زیادہ ہولناک ہے کیونکہ قابض فورسز کی بربریت کا بیشتر حصہ کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتا۔ دیہات اور دور دراز علاقوں میں جب لوگ غائب کر دیے جاتے ہیں یا تشدد کے بعد خاموشی سے قتل کر دیے جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ ڈر اور خوف کے باعث اپنی آواز بلند نہیں کر پاتے۔
پہلگام واقع کے بعد بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس "کارروائی” کے نام پر 44 کشمیریوں کو شہید ، 3190 کو گرفتار کیا گیا اور 81 گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ ایک منظم اجتماعی سزا کے طور پر کیا گیا تاکہ عوامی تحریک آزادی کو کچلا جا سکے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ریاستی دہشتگردی نے کبھی کسی قوم کو جھکایا نہیں، بلکہ اس کی تحریک کو مزید جلا بخشی ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہر شہادت ایک نئی بیداری پیدا کرتی ہے، ہر لاش ایک نئے قافلے کو جنم دیتی ہے اور ہر احتجاج ایک نئے عزم کو جلا دیتا ہے۔
مقبوضہ علاقہ میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم یہ حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ یہ خطہ محض جغرافیائی تنازعہ نہیں بلکہ انسانی المیے کا سب سے بڑا استعارہ بن چکا ہے۔ ایک مزدور یا عام شہری کی جان لینا کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی ہے جس کے ذریعے خوف کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ قابض افواج کی سفاکانہ کارروائیاں محض وقتی ظلم نہیں بلکہ کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت اور نسلوں پر گہرا زخم چھوڑتی ہیں۔
ان واقعات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بھارت اپنی نام نہاد جمہوریت کے پردے میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو پاؤں تلے روند رہا ہے۔ کشمیری عوام کے صبر اور احتجاج کو کرفیو اور گرفتاریوں کے ذریعے دبانے کی کوشش اس امر کی علامت ہے کہ بھارت کو اپنی پالیسی کی ناکامی کا بخوبی ادراک ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کشمیریوں کے دلوں میں اسکے خلاف نفرت اور اشتعال ہے اور اگر اسے جبری خاموشی کاخول میں بند نہ رکھا گیا تو یہ آتش فشاں کی طرح پھٹ جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا پروپیگنڈا کہ "کشمیر پرامن ہے” خود اس کے اپنے اقدامات کی روشنی میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔ اگر واقعی امن قائم ہو چکا ہے تو پھر عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے کرفیو کیوں لگایا جاتا ہے؟ گرفتار شہریوں کی لاشیں دریا اور پہاڑوں میں کیوں برآمد ہوتی ہیں؟ جعلی مقابلے کس لیے رچائے جاتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات خود بھارتی ریاست کی ساکھ کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ عالمی برادری کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ کشمیری عوام دہائیوں سے انصاف کے متلاشی ہیں لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں محض کتابوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ یہ واقعات عالمی برادری کے لیے بھی ایک کسوٹی ہیں۔ اگر عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اس کھلے ظلم پر خاموش رہتی ہیں تو یہ خاموشی دراصل ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔ بھارت عالمی معاہدوں اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے مگر طاقتور ممالک اپنی اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کے باعث بھارت کے جرائم پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ یہی دوہرا معیار عالمی نظام انصاف کو کھوکھلا اور غیر معتبر بنا دیتا ہے اور اس سے کشمیریوں جیسی مظلوم اور پسی ہوئی اقوام کا کرب اور بے اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔ انصاف کے مستحقین کا انصاف کے نظام سے اعتماد اٹھ جائے تو وہ نظام نہیں جبر رہ جاتا ہے۔
بانڈی پورہ کے فردوس احمد میر کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کے دکھ کا عکاس ہے۔ یہ واقعہ اس سوال کو پھر سے زندہ کرتا ہے کہ دنیا کب تک کشمیریوں کے خون سے اپنے ضمیر کو داغدار کرتی رہے گی؟ اور بھارت کب تک اپنے جرائم کو جمہوریت اور ترقی کے پردے میں چھپاتا رہے گا؟ وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کو اس کے جرائم کے کٹہرے میں لائے اور کشمیری عوام کو وہ حق دلائے جو ان سے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے چھینا جا رہا ہے۔ ورنہ تاریخ نہ تو عالمی اداروں کو معاف کرے گی، نہ ہی ان طاقتور ریاستوں کو جو مظلوموں کی چیخوں کے باوجود خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
رہی بات کشمیریوں کی تو وہ بھارت کے ظلم اور عالمی ناانصافی کا نشانہ تو بن رہے ہیں ۔ وہ اپنی تاریخ کے المناک باب سے گذر رہے ہیں مگر وہ اسے قربانی اور بیش قیمت آزادی کی قیمت سمجھتے ہیں۔ وہ ہر ظلم، ہر ستم اور ہر زخم کو آزادی کی دیوار میں لگنے والی اینٹ سمجھتے ہیں۔ وہ وقت کے دور میں پس تو رہے ہیں مگر تاریخ میں وہ گھاٹے میں نہیں جارہے۔ہر شہادت، ہر جنازہ، اور ہر احتجاج ان کی تحریک آزادی کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ قابض قوتیں سمجھتی ہیں کہ وہ خوف اور تشدد سے تحریک کو کچل سکتی ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کا صبرو استقلال اور شہداء کا خون ہمیشہ تحریکوں کو دوام بخشتا ہے۔ کشمیر کے عوام جس قربانی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ واضح پیغام ہے کہ آزادی کی تڑپ کسی ریاستی جبر سے ختم نہیں جا سکتی۔







