
فالس فلیگ” (False Flag) ایک اصطلاح ہے جو عموما فوجی، سیاسی اور خفیہ کارروائیوں کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد ایسی کارروائی ہوتی ہے جو کوئی ریاست، یاطاقتور گروہ خود کرتا ہے، لیکن اس کا الزام کسی دوسرے پر ڈال دیتا ہے تاکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔یہ ایک دھوکہ دہی کی حکمتِ عملی ہے، جس میں حملہ یا واقعہ اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے اسے کوئی اور فریق انجام دے رہا ہو، جبکہ حقیقت میں اس کے پیچھے کوئی اور ہوتا ہے۔یعنی خود اپنے اُپر حملہ کرنااور پھر الزام دشمن ملک پر ڈال کر جنگ چھیڑ دے، تو یہ فالز فلیگ کہلاتا ہے۔اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام اور دنیا کو گمراہ کر کے اپنی سیاسی یا عسکری حکمت عملی کو آگے بڑھایا جائے۔
بھارت نے ماضی میںجموں و کشمیر میں جدوجہد آزادی کو دبانے اور دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے فالس فلیگ اپریشن کئے ہیں جیسے 2000میں چھٹی سنگھ پورہ (Chittisinghpura) قتلِ عام ہے، یہ بھارتی ایجنسیوں کا فالز فلیگ آپریشن تھا۔خالصتان رہنماں اور کئی کشمیری سیاسی حلقوں انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ یہ واقعہ دراصل بھارتی خفیہ ایجنسیوں را اور بھارتی فوج نے خود کرایا تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کیا جا سکے اور اس وقت بھارتی دورے پر امریکی صدر کو یہ باور کرایا جا سکے کہ کشمیر میںآزادی کی تحریک نہیںبلکہ ایک شدت پسند تحریک ہے۔لیکن بعد ازاں میڈیا میں بھارتی فوج کے ایک کیپٹن راٹھورکا بھی دعوی بھی سامنے آیا جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ یہ آپریشن اندرونی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔سکھوں کے قتل عام کے دو روز بعد بھارتی فوج نے ڈرمائی انداز میں پانچ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کوکشمیری جنگو قرار دیکر دے کر مارا کہ وہ اس واقع میں ملوث تھے لیکن کشمیری عوام کے احتجاجی مظاہروں نے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بعد میں واقعے کی تحقیت ہوئی یہ ثابت ہوا کہ وہ سب مقامی بے گناہ مقامی لوگ تھے۔
اوڑی حملہ (2016)بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ کیا گیا اور الزام براہِ راست پاکستان پر ڈالا گیا۔ بعد میں کئی رپورٹس میں ظاہر ہوا کہ یہ حملہ دراصل بھارتی ایجنسیوں کے زیرِ انتظام ایک فالز فلیگ تھا۔اوڑی کی ناکامی کے بعد پٹھانکوٹ ایئر بیس حملہ بھارت نے اسے بھی فورا پاکستان کے سر پر ڈالنے کی کوشش کی۔لیکن ثبوت نہ ہونے کے باعث بھارت کا یہ موقف عالمی سطح پر زیادہ کامیاب نہ ہوا۔
پلوامہ حملہ (2019)میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں 40 سے زائد اہلکار مارے گئے۔بھارت نے فورا الزام پاکستان پر لگا دیا۔لیکن بعد میں اس وقت کے موجودہ گورنر ستیاپال ملک اوردیگر کئی ماہرین اور خود بھارتی تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ اندرونی طور پر پلان کیا گیا واقعہ تھا تاکہ انتخابات سے پہلے مودی کو فائدہ ہو۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی چھوٹے بڑے حملوں کوبھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے فالز فلیگ قرار دیا گیابھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ دنیا کو دکھایا جائے عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑا جائے کہ "دہشت گرد پاکستان سے آ رہے ہیں” اور مقبوضہ کشمیر میں انسانوں پر ظلم و جبر اور پاکستان مخالف بھارتی کارروائیوں کو دنیا کے سامنے جائز قرار دیا جا سکے اور سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے لیکن ہر بار وقت کے ساتھ بھارتی چہرے سے نقاب اترا ہے اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آیا۔
اپریل 2025 پہلگا م فالس فلیگ آپریشن پہلگام میں واقع بیساران ویلی (Baisaran Valley) چند مسلح حملہ آوروں نے نے بیسیوں سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد جاں بحق اور تقریبا 20 زخمی ہوگئے،سیاحوں پر ہونے والا سب سے بڑا اور سنگین واقعہ تھا۔لیکن واقعہ کے صرف چند منٹ بعد ہی ابھی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی تھی۔بھارتی میڈیا کی طرف سے الزام پاکستان پر ڈال دیا گیا۔بغیر کسی تفتیش یا فرانزک شواہد کے اتنی تیزی سے نتیجہ اخذ کرنا شکوک کو جنم دیتا ہے۔جبکہ میڈیا میں آکر کشمیر کے مقامی لوگوں نے کہا کہ پہلگام سیاحتی علاقہ اور فوجی کنٹرول میں ہے۔ وہاں ہتھیار اور بارود لے جانا تقریبا ناممکن ہے اس کے باوجود بھارتی حکام نے باہر سے آئے دہشت گردوں کی کہانی پیش کی۔واقعہ کے فورا بعد بھارتی حکومت نے پاکستان مخالف بیانیہ بڑھایا اور عالمی سطح پر ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی۔یہ وہی پیٹرن ہے جو پہلے چھتیس سنگھ پورہ (2000) اور 2016میں اوڑی و پٹھانکوٹ اور پلوامہ (2019) میںدیکھا گیا تھا۔ بھارتی صحافی ارچنا تیواری اور دیگر ذرائع نے اس واقعے کو سازش اور را کی تیار کردہ کہانی قرار دیا۔کئی بین الاقوامی مبصرین نے سوال اٹھایا کہ بھارت ہر بڑے واقعے پر فورا پاکستان کو کیوں ذمہ دار ٹھہراتا ہے؟ایف آئی آر اور میڈیا بیانات میں تضاد پایا گیا۔ حقیقت میں بھارت نے اپنے شہریوں یا سیاحوں کو نشانہ بنا کر الزام پاکستان پر ڈال کر کشمیری تحریکِ آزادی کو بدنام کرنے کیلئے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ۔جبکہ پاکستانی دفاعی تجزیہ کاروں سمیت کشمیری رہنما اور کئی بھارتی صحافی بھی اسے فالس فلیگ آپریشن کہتے ہیں۔اسکے بعد بھارت نے اپریشن سندور لانچ کرکے پاکستان پر حملہ کیا پاکستان نے دندان شکن جواب دے کر بھارت کوامریکی صدر ٹرمپ سے سیز فائر کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا۔پاکستان پر حملہ کرنا اور پسپائی و رسوائی نے مودی سرکار کو بھارتی صحافیوں سیاسی حلقوں کے سوالوں کی لپیٹ میں لیا۔کانگریس رہنما گورو گوی نے لوک سبھا میں حکومت کو "بزدل حکومت” کہا، اس سوال پر کہ دہشت گرد کیسے فوجی وردی پہن کر داخل ہوئے، اور حملے کے 100 دن بعد بھی واضح وضاحت نہ دی گئی۔مختلف رپورٹس کے مطابق بھارت کے کئی مگ-21، مگ-27 اور سوخوئی،فرانسیسی رفال حادثوں اور جھڑپوں میں تباہ ہوئے، لیکن سرکاری سطح پر ان کی تعداد یا وجوہات سامنے نہیں آئیں۔بھارتی حکومت نے کہا "ہم نے پاکستان کا F-16 مار گرایا”، لیکن بعد میں امریکی رپورٹ نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔ دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ معلومات "قوم کے حوصلے” اور "انتخابی بیانیہ” بچانے کیلئے چھپائی گئیں۔گجرات کی ایک یونیورسٹی نے اپریشن سندور کا لوگو اپنے کنوکیشن کی دعوت نامے سے ہٹا دیا۔واضح شواہد کا فقدان، اور متنازع بیانیہ اور دعوں نیبھارت کے اندر ایک بحثکو جنم دیا۔ حقیقت کی گواہی دینے میں تاخیر، سیاسی تنقید، میڈیا کا منتشر ردعمل، اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈایہ سب عوامل مل کر مودی حکومت کے لیے رسوائی کا باعث بنے۔
پہلگام فالس فلیگ اور پاک بھارت جنگ کے بعدبھارت کو حاصل ہونے والی رسوائی مودی حکومت کو چین نہیں دے پا رہی ہے ۔مودی سرکار سیاسی فائدہ کے بجائے سیاسی رسوائی کا شکار ہوئی۔ مودی حکومت کسی نے کسی طرح جنتا کو بتانا چاہتی ہے کہ ہم جیت گئے لیکن جنتا ماننے کیلئے ہی تیار نہیں ۔اسلئے مودی حکومت کبھی سرینگر میں عام شہریوں کو قتل کرکے ڈرامائی طور پر اُن سے حاصل کردہ چاکلیٹ کے ریپر کواسمبلی میں بتا کر پہلگام کا زمہ دارقرار دیاجبکہ پکڑے گئے شواہدچاکلیٹس، آئی ڈیز، بائیومیٹرکس کو ماہرین نے مضحکہ خیز اور جعلی قرار دیا۔مودی حکومت نے جعلی دراندازی کا راگ الاپتے ہوئے چند روز قبل میڈیا میں تین پاکستانی نوجوانوں کے خاکے پیش کئے اور بیانیہ پیش کیا کہ یہ دہشت گرد ہیں جو بھارت میں بزریعہ نیپال داخل ہوئے ہیں کوئی بڑے حملے کی پلاننگ ہے۔ایک تیر سے دو شکار کھیلتے ہوئے بہار میںبی جے پی مخالف کانگرش کا پاور شو بھی اس ہی بہانے سے ختم کیا گیا کہ دہشت گری کا خطرہ ہے ۔پھر بھارتی میڈیا میں تینوں نوجوانوں کی نیپال ائر پوڑٹ سے حاصل کردہ پاسپورٹ تصاویر بھی میڈیا پر جاری کی۔ لیکن دوسرے ہی روز بھارتی بیانہ اس وقت بے نقاب اور بے معنی ہوا جب پاکستان سے کمبوڈیا براستہ نیپال جانے والے تینوں نوجونوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کی ہے ہم عام شہری ہیں روزگا ر کیلئے کمبوڈیا میں ہیں بھارت ہمیں دہشت گرد بتا کر پیش کر رہا ہے ۔اس کے بعدبھارت کا یہ بیانیہ خود بخود ہی ختم ہوا۔ مودی حکومت کا پاکستان کے خلاف ابی دہشگردی، فالز فلیگ ، دراندازی کا جھوٹا دعویٰ ،یا کشمیریوں کی تحریک آذادی کو بدنام کرنے کی بھارتی سازش کی کڑیاں جاری ہیں اللہ سبحان و تعالی کے فضل سے پاک فوج ،کشمیری عوام و پاکستانی عوام کے عز م کے سامنے پہلے بھی بے نقاب ہوئیں ہیں اور آئند ہ بے ناکام ہی رہیں گی۔








