
فارسی, اردو اورکشمیری زبان پر گہری دسترس رکھنے والے پروفیسر عد الغنی بٹ کے انتقال کی خبر نے مجھے ہی نہیں، ان کے جاننے والے ہر شخص کو افسردہ کردیا۔ بٹ صاحب کے خاندان سے ہمارے مراسم طویل عرصے پر محیط تھے بلکہ اگر انہیں کئی نسلوں کے تعلقات کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔والد محترم چودھری غلام حسن، گیلانی صاحب سے پچاس کی دہائی کے اخر میں متعارف ہوئے مگر عبد الغنی بٹ کے خاندان سے ہمارے خاندان کے مراسم داد جی مقدم فقردین سے بھی پرانے تھے، وہ پونچھ سے مال و اسباب لے کر سوپور زالورہ سے پیچھے اپنی خاندانی ڈھوک جاتے تھے تو پروفیسر عبد الغنی بٹ صاحب کے والد صاحب کا اصرار ہوتا تھا کہ بوٹینگو سے گذرتے ہوئے وہ اپنے گھوڑے خچر بھینسیں گائیں لے کر اپنی فیملی سمیت ان کے باغات میں پڑاو¿ ڈالیں گے اس موقعے پر محفلیں جمتیں، الاو¿ دھکتے ، بکرے بھنتے اور گجر کشمیری دوست جم کر گپیں لگاتے۔ بٹ صاحب کے والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے مقدم فقردینا تمھاری بھینسیں ایک دن تم کو کھا جائیں گی۔ پوچھا گیا کیوں ؟ تو کہتے یہ اتنا زیادہ چارہ جو کھاتی ہیں۔ اس پردادا جی کہتے بھینس پالنا دل گردے والوں کا ہی کام ہے، اس لیے ہم ایک دو نہیں بیسیوں بلکہ سینکڑوں گائیں بھینسیں پال لیتے ہیں ?? آپ سے تو ایک گائے بھی مشکل سے پلتی ہے۔یہ مکالمہ ہی نہیں دو تہذیبوں دو زبانوں دو مختلف علاقوں کلچر اور رہن سہن کی عکاسی ہوتی تھی آپس میں بے تکلفی اور دوستی اتنی تھی کہ مشکل سے مشکل بات بھی ایک دوسرے سے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوتی ،پھر جب ہم زالورہ کے مکین ہوئے تو بٹ صاحب ہمارے باغات اور زمینوں سے اپنے مال مویشی کا چارہ ٹرالیوں کے ذریعے لے جاتے تھے۔ ان کا اور سید علی گیلانی صاحب کا ہمارے گھروں میں آنا جانا ایسے ہی تھا جیسے ان کے اپنے گھر ہوں۔ آج بٹ صاحب کی رحلت کا سنا تو سوچا کہ ہم نے ایک بڑا فلسفی کھودیا ۔پروفیسر عبد الغنی بٹ ایک انتہائی دور اندیش شخص تھا جس کی نظر منظر سے پار دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی وہ حقائق کی تلخی کو شیریں انداز میں فلسفے میں لپٹ کر یوں بیان کرتے کہ بات سننے والے کو چبھے بغیر اس کے دل میں اتر جاتی۔
پروفیسر عبد الغنی بٹ صاحب کی وفات پر بڑے بھائی نذیر احمد اصلاحی صاحب سے فون پر ان سے متعلق یاداشتوں پر بات ہوئی ۔ ا±نہوں نے بتایا کہ بٹ صاحب کا خاندان علاقے کا ایک ایسا متمول ترین خاندان تھا جو غریب پرور بھی تھا۔ آس پاس کے لوگ مسائل کے حل کے لیے ان کے ہاس آتے تھے جنہیں وہ عدالت کچہری میں لے جائے بغیر انصاف اور خوش اسلوبی سے گھر بیٹھے ہی حل کر دیتے تھے۔ یہ ان کی اور ہمارے بڑوں کی قدر مشترک تھی ان کے گھر میں ان کے بھائی عبد الرحیم بٹ گھریلو امور کے ذمہ دار تھے جو بڑے خاندان، وسیع باغات، زرعی زمینوں اور کارخانوں کی دیکھ ریکھ کرتے تھے۔خاندان میں یک جہتی کا یہ عالم تھا کہ پورا ایک محلہ ایک خاندان پر مشتمل تھا جن کے لیے روزانہ ایک جگہ دیگ پکتی تھی اور ایک جگہ برتائی جاتی تھی ان کے گھروں میں گاڑیاں بھی تھیں اور نوکر چاکر بھی مگر ان کے تعلق داروں سے رویے ایسے تھے کہ کبھی اس بنیاد پر کسی برتری، کم تری کا احساس نہیں ہوتا تھا۔یہ گھرانا جماعت اسلامی کا معاون ومددگار گھرانہ سمجھا جاتا تھا اور گھرانے کے تمام افراد گیلانی صاحب کے ووٹرز تھے ۔ایک وقت تک پروفیسر صاحب خود بھی جماعت اسلامی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کی فکر سے متاثر اور اس کے پیام بر تھے مگر وہ کبھی جماعت کے رکن نہیں بنے البتہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان کے اثرورسوخ کے نتیجے میں حریت کانفرنس میں مسلم کانفرنس کی نمائندگی کے لیے انہوں نے سیاسی پوزیشن تبدیل کی اور حریت کانفرنس کے چیرمین بھی رہے۔
دلی سرکار نے بدقسمتی سے ان کے جنازے پر بھی روایتی انداز اپناتے ہوئے لوگوں کو اس میں شرکت سے روکا جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ قوموں کے لیڈر خواہ وہ کچھ بھی نظریات رکھتے ہوں ان کی موت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے مگر اس وقت دلی پر جو ٹولہ برسر اقتدار یے اس کے نزدیک اخلاق واقدار کوئی چیز نہیں۔ تاہم جبر و استبداد کا یہ عمل زیادہ دیر چلنے والا نہیں۔







