ارشد میر
23 مارچ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جب 1940 میں قراردادِ لاہور کے ذریعے ایک علیحدہ مملکت کا تصور واضح شکل اختیار کر گیا۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک ایسی جدوجہد کی علامت ہے جو آج بھی جاری ہے۔ اسی تناظر میں جب ہم یومِ پاکستان کو دیکھتے ہیں تو مسلہ کشمیر اس کے ساتھ ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک ایسا ادھورا وعدہ جو تقسیمِ ہند کے وقت کیا گیا مگر آج تک پورا نہیں ہو سکا۔
برصغیر کی تقسیم کا بنیادی اصول یہی تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے جبکہ ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ جموں و کشمیر ایک واضح مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کی جغرافیائی، تہذیبی اور معاشی وابستگیاں بھی پاکستان کے ساتھ زیادہ مضبوط تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اصولی، اخلاقی اور قانونی طور پر جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ایک فطری امر تھا۔ مگر تاریخ نے ایک مختلف رخ اختیار کیا اور بھارت نے مکاری، سازش اور فوجی طاقت کے ذریعے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما لیا۔
1947 میں جب کشمیری عوام نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی جدوجہد شروع کی تو بھارت نے فوجی مداخلت کرتے ہوئے اس خطے میں اپنی افواج داخل کر دیں۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھا بلکہ اس نے پورے خطے کو ایک مستقل تنازعے میں دھکیل دیا۔ بعد ازاں بھارت خود یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا جہاں متعدد قراردادیں منظور ہوئیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں، خصوصاً 1948 اور 1949 کی، اس بات کی ضمانت دیتی تھیں کہ جموں و کشمیر میں ایک آزاد اور منصفانہ استصوابِ رائے کرایا جائے گا۔ بھارت نے نہ صرف ان قراردادوں کو تسلیم کیا بلکہ عالمی برادری کے سامنے بارہا یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دے گا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ان وعدوں سے منحرف ہوتا گیا اور بالآخر اس نے جموں و کشمیر کو اپنا “اٹوٹ انگ” قرار دینا شروع کر دیا۔ ایک ایسا دعویٰ جو نہ صرف تاریخی حقائق بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔
گزشتہ36 برسوں سے بطور خاص مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اس چھوٹے سے خطے میں تعینات ہیں جو اسے دنیا کا سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بناتا ہے۔ نہتے کشمیری عوام جو صرف اپنے حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، خواتین کی بے حرمتی اور گھروں کی تباہی، یہ سب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
نہتے، کمزور اور محکوم و محصور لوگوں کے خلاف 10 لاکھ فوج کے ذریعہ 36 برسوں سے بلا تعطل آپریشن، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ سیاسی مکانیت مسدود ہے، اظہارِ رائے پر قدغن ہے، ہر فرد زیر نگرانی ہے۔ یہاں تک کہ مذہبی مواقع جیسے عید اور جمعتہ الوداع پر بھی کشمیری عوام کو آزادی سے عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور ان مواقع پر بھی گرفتاریاں اور پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔
مگر ان تمام مظالم کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ کشمیری عوام نہ دبے ہیں اور نہ جھکے ہیں۔ انھوں نے اپنے جذبہ حریت اور استقامت سے بھارت کے ہر حربے کو ناکام بنایا۔مودی حکومت کی جانب سے انھیں عددی اور تہذیبی طور پر ختم کرنے کے نئے اسرائیلی طرز کے منصوبوں پر عملدرآمد اسکا ثبوت ہے۔ تاہم کشمیری عوام کی جدوجہد آج بھی اسی جذبے اور استقامت کے ساتھ جاری ہے جیسا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے رہی ہے۔ بھارت نے اپنے ترکش کا ہر تیر آزما لیا۔ فوجی طاقت، سیاسی چالیں، سفارتی دباؤ اور معاشی پابندیاں مگر وہ کشمیری عوام کے حوصلوں کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔
کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی، مذہبی، ثقافتی اور جذباتی رشتہ ہے۔ یہ رشتہ وقت کی ہر کسوٹی پر پورا اترا ہے۔ یہ وہ بندھن ہے جو مشترکہ عقیدے، تہذیب، زبان، جغرافیہ اور حتیٰ کہ دریاؤں کے بہاؤ تک میں جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے اور پاکستان کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلۂ کشمیر ہی ہے۔ بھارت نے گزشتہ 79برسوں میں اپنی بے پناہ دولت اور وسائل کا بڑا حصہ فوجی اخراجات اور اسلحہ سازی پر صرف کیا۔ صرف اس لیے کہ وہ جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے اور پاکستان کو اس مسئلے سے دستبردار ہونے پر مجبور کر سکے۔ اس دوران اس نے پاکستان پر کئی جنگیں بھی مسلط کیں۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنے دفاع کو مضبوط بنایا مگر اس کا مقصد ہمیشہ دفاعی رہا ہے۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
79 سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام و نامراد رہا ہے۔ وہ نہ تو کشمیری عوام کی جدوجہد کو ختم کر سکا اور نہ ہی پاکستان کو اس مسئلے سے دستبردار کر سکا۔ حالیہ جنگی صورتحال، خصوصاً مئی 2025 کی جنگ نے بھارت کے اس زعم کو بھی توڑ دیا کہ وہ روایتی جنگی برتری کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔ اس جنگ نے ایک نیا توازن قائم کیا جس میں یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے معاملے پر جھکانا ممکن نہیں۔
رہی بات نظریۂ پاکستان کی، تو آج کا بھارت خود اس نظریے کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت بن چکا ہے۔ نام نہاد سیکولر بھارت میں ہندو انتہاپسندی کا عروج، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم، ہجومی تشدد میں روزانہ قتل کے واقعات، عبادت گاہوں پر حملے اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوششیں، یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ دو قومی نظریہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے تاریخ نے یوں درست ثابت کیا کہ پون صدی کے بعد اسکے بدترین مخالفین خود اپنے مظاہر سے اسکی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔
اندرا گاندھی نے کبھی کہا تھا کہ ہم نے نظریۂ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے مگر آج کا بھارت اپنے ہر عمل سے اس نظریے کو زندہ اور درست ثابت کر رہا ہے۔ گلیوں سے لے کر ایوانوں تک، ہر سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کا قیام نہایت ضروری تھا۔
یومِ پاکستان ہمیں نہ صرف اپنے ماضی کی یاد دلاتا ہے بلکہ ہمیں اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا اور اس مقصد کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت نہیں مل جاتا۔
پاکستان کا نظریاتی وجود تو مکمل ہے البتہ زمینی وجود کی تکمیل ابھی باقی ہے۔ یہ بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کی آزادی سے مکمل ہوگا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ جب تک بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا خواب ادھورا رہے گا۔ مگر جس طرح تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے حق اور سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کشمیری عوام کی جدوجہد، ان کی قربانیاں اور ان کا عزم اس بات کی ضمانت ہیں کہ ایک دن ضرور آئے گا جب مقبوضہ جموں و کشمیر آزاد ہوگا اور برصغیر میں امن و انصاف کا سورج طلوع ہوگا۔







