پاکستان

وزیرِاعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی توجہ کشمیر اور غزہ کی طرف مبذول کرائیں گے

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف آج سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے جہاں وہ عالمی برادری سے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین پر طویل قبضے اور حقِ خودارادیت سے انکار کے مسائل کو حل کرنے کی اپیل کریں گے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حکومت پاکستان کے ایکس اکائونٹ پر جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ وزیر اعظم عالمی برادری کی توجہ غزہ کے سنگین بحران کی طرف مبذول کراتے ہوئے فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات ختم کرانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی اپیل کریں گے۔بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم علاقائی سلامتی کی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔وزیرِاعظم پیر کی رات لندن سے روانگی کے بعد نیویارک پہنچے اوران کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، دیگر وزرا ء اور اعلی حکام بھی ہیں۔جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر، کویت کے ولی عہد و وزیرِاعظم شیخ صباح الخالد، عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سمیت دیگر رہنمائوں سے ملاقاتیں کریں گے۔حکومتی بیان کے مطابق وزیراعظم ان دوطرفہ ملاقاتوں میں عالمی رہنمائوں اور اعلی یو این حکام سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے، چارٹر کی پاسداری، تنازعات سے بچائو، امن کے فروغ اور عالمی خوشحالی کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کریں گے۔
وزیر اعظم متعدد اعلیٰ سطحی تقریبات میں بھی شریک ہوں گے جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت اپنے اصل عزائم کی تجدید، عالمی ترقی کے روشن مستقبل کے لیے متحد کے موضوع پر اعلی سطحی اجلاس اور ماحولیاتی اقدامات پر خصوصی اعلی سطحی تقریب شامل ہیں۔نیویارک میں وزیرِاعظم شہباز شریف امریکہ اور قطر کی میزبانی میں عرب اور مسلم ممالک کی خصوصی سربراہی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے اور اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک ہوں گے۔وزیرِاعظم کو اس اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔وہائٹ ہائوس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ سعودی عرب، یو اے ای، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے رہنمائوں کے ساتھ ایک کثیر الجہتی ملاقات کریں گے۔ رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں غزہ کے مسئلے پر بات ہوگی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button