World

مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، عاصم افتخار احمد

اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے جنرل اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں عام مباحثے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات چاہتا ہے لیکن امن ناانصافی، جبر اور حقوق کی پامالی کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت غیرقانونی طورپر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور 5اگست 2019کے بعد کئے گئے تمام یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو فورا واپس لے۔عاصم افتخار نے واضح کیا کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے متعلق تاریخی اعلامیہ اس اصول پر قائم ہے کہ تمام اقوام کو آزادی، خودمختاری اور خود ارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام آج بھی اس بنیادی حق سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے دیرینہ حل طلب تنازعہ ہے اور اس کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔عاصم افتخارنے کہا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون بن چکا ہے جہاں دس لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، اجتماعی سزائیں اور غیرقانونی گرفتاریاں روز کا معمول بن چکی ہیں جبکہ 2019سے پوری کشمیری قیادت کو قید کر دیا گیا ہے جن میں سے متعدد رہنما جیلوں ہی میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس جبر کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور آزادی کے لیے اپنی جرات مندانہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کیا جس کے تحت لاکھوں غیر کشمیریوں کو غیرقانونی ڈومیسائل جاری کیے گئے، کشمیریوں سے زمینیں ضبط کی جا رہی ہیں اور ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو انتہا پسند ہندوتوا نظریے کا حصہ قرار دیا، جو اقلیتوں کے خلاف مذہبی تعصب و استحصال کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی المیہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی نظام کی ساکھ کو انتہائی متاثر کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں پائیدار امن کے لئے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button