مضامین

بھارتی فوجی جرنیلوں کی دھمکیا ں،جنگ مئی کی ہزیمت کا درد

پاک فوج و حریت کانفرنس کا انتباہ

تحریر: ارشد میر.

منگل 14 اکتوبر بھارتی فوج کے دو جرنیلوں، مغربی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار اور ڈائریکٹر جنرل ملڑی آپریشنز لیفٹننٹ جنرل راجیو گھئی کے یکے بعد دیگرے دو اشتعال انگیز بیانات سامنے آئے۔ جموں میں 1965 کی پاک بھارت جنگ کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ سابق فوجیوں کے اجتماع اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل منوج کمار کٹیار نے جنگ مئی کی تکلیف دور کرنے کے لئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف جارحیت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف مبینہ دہشت گرد سرگرمیاں جاری رکھیں تو آپریشن سندور 2.0 پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ دوسری طرف جنرل گھئی جنگ مئی کی شکست کو چھپانے کی غرض سے خیالاتی کامیابیوں کے نئے اعدادوشمار لیکر آئے اور کہا کہ اس جنگ میں بھارت نے کنٹرول لائن پر 100 پاکستانی فوجیوں کو شہید کرنے کے علاوہ 12 پاکستانی طیارے تباہ کئے جن میں ایک C-130 طرز کا ، ایک AEW&C (ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول) طیارہ اور چار سے پانچ دیگر طیارے زمین پر ہی تباہ کئے گئے۔ اگر آپ دیکھیں تو آٹھ فضائی اڈے، تین ہیڈکوارٹر ہینگرز اور چار ریڈار تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔ پاکستان کے فضائی اثاثے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔ موصوف اس پریس بریفنگ کے دوران وہ دھمکیوں والی وہ سرکاری ٹیپ بھی چلادی جو ان کی مجبوری بن چکی ہے۔اور جس سے شائد ان کے دلوں کو تھوڑا آسرا ہوجاتا ہے۔

آپکو یاد ہوگا کہ رواں ماہ کے آغاز پر بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سر کریک میں اپنے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر (سر کریک سیکٹر میں) پاکستان کی طرف سے کوئی بھی خطرناک یا غلط قدم اٹھایا گیا تو اس کو’مضبوط اور فیصلہ کن’ جواب دے کر روکا جائے گا جو ‘تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دینے’ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر چند روز بعد ہی بھارتی فوج کے سربرا ہ جنرل اپندر دِویڈی نے دھمکی دی کہ کہ” اگلی بار پاکستان کی طرف سے کوئی حرکت ہوئی تو بھارتی فورسز کوئی رعایت نہیں دکھائیں گی۔”
کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجی قیادت کی ان دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقبوضہ علاقے میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے مذموم بھارتی منصوبے کو بے نقاب کرتی ہیں۔حریت ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز دعوے پاکستان اور حق پر مبنی کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی بھارتی سازشوں کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت کو ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کر کے الزامات پاکستان پر دھرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت بے بنیاد الزامات کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس منافقت ، جھوٹ ، دھوکہ دہی کی ایک بھیانک تاریخ رکھتی ہیں ۔

ادھر پاک فوج نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی فوجی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات سے جنوبی ایشیا میں امن کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ” آئی ایس پی آر“کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت کا یہ من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈہ اور دھمکیاں جنگ مئی شکست کی تکلیف کا اظہار اور بہار و مغربی بنگال میں انتخابات میں کامیابی کے حصول کی کوشش ہے۔ تاہم پاکستان پہلے بھی اور اب بھی واضح کرتا ہے کہ بھارت کو اپنے عوام اور پڑوسیوں کے مفاد کے منافی مہم جوئی اور بالادستی کی پالیسیوں پر اڑا رہنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، پاکستانی عوام اور افواج اپنی دھرتی کے ہر انچِ کے دفاع کے لیے پوری صلاحیت اور پختہ عزم رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیاکہ بھارتی مسلح افواج اور اس کے سیاسی آقاﺅں کو پاکستانی صلاحیت اور عزم کو سمجھ لینا چاہیے، بھارت کے ہر جارحانہ اقدام کا جواب تیز، پختہ اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا،جو اسکی اگلی نسلیں یاد رکھیں گی۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جھوٹ کی پرتیں بے نقاب ہو چکی ہیں اوردنیا اب بھارت کو سرحد پار دہشتگردی کا اصلی چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز مانتی ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی عوام اور بین الاقوامی برادری کو جھوٹ باور کروائے جا رہے ہیں، ہرپیشہ ور فوجی جانتا ہوگا کہ غیرضروری گھمنڈ اوربےجا بیانات جنگی جنون بڑھا سکتے ہیں، ایسے عمل سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مئی 2025 کی جنگ میں بھارتی جارحیت کے بعد جب پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور دفاعی تیاریوں کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تو بھارتی حکمران، فوجی قیادت اور میڈیا اس بدترین شکست کے صدمے سے اب تک باہر نہیں نکل پائے۔ مودی حکومت اور اس کے فوجی جرنیل اس ذلت و رسوائی کو چھپانے کے لیے مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا، خود ساختہ فتوحات کے قصے اور پاکستان کے خلاف بیہودہ الزامات گھڑنے میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر بھارتی ایئر چیف ائیر مارشل اے پی سنگھ نے "آپریشن سندور” کے نام سے ایک فرضی کامیابی کی داستان تراش کر بھارت کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جو جلد ہی مذاق کا موضوع بن گئی۔
بھارتی ایئر چیف نے 10 اگست 2025 کو دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے دعویٰ کیا کہ بھارتی فضائیہ نے مئی کی جنگ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے، جن میں بعض جدید ایف-16 بھی شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ کو گزرے تین ماہ ہو چکے تھے جب انھوں نے یہ دعویٰ کیااور اس ضمن میں ثبوت و شواہد نام کی کوئی چیز پیش نہیں کی۔ اس پرجب عالمی اور بھارتی میڈیا نے سوال اٹھانا شروع کیے اور ان کا مذاق اڑایا گیا تو بجائے شرمدہ ہوکر کسی بل میں چھپنے کے، شکست کے ہاتھوں شدید تکلیف میں مبتلاءبھارتی حکومت اور ملڑی اسٹیبلشمنٹ نے پھر سنگھ جی کو پیش کیا اور انھوں نے یہ نیا دعویٰ کر دیا کہ پاکستان کے12 سے 13 طیارے تباہ کیے گئے جن میں ایف-16، جے ایف-17 اور ایک سی-130 شامل تھے اور بعض کو ہینگرز میں ہی تباہ کیا گیا۔ بھارتی فوج پر داخلی سطح پر تنقید ہورہی تھی کہ اسکی اکائیاں ہم آہنگی کے فقدان اور تضادات کا شکار ہیں۔ چنانچہ بھارتی DGMO جنرل گھئی نے اسی تاثر کو زائل کرنے کے لئے فضائیہ کے سربراہ کے چند روز پہلے کے گئے دعوؤں کو دھرایا ۔ مگر اس کوشش نے نہ صرف انکے سابقہ دعوے کے خیالی اور بھارتی فوج کی تضاد بیانی کے تاثر کو پختہ اورپوری فوج اور ریاستی مشینری کی ساکھ کو مزید خراب کیا بلکہ دنیا کے ساتھ ساتھ خود بھارتی عوام کوبھی تقریبا مجبور کیا کہ اب وہ بھی ان دعووں کو "فکشنل نیشنلزم” قرار دے کر مسترد کرے۔

بھارتی فوجی قیادت کے خودساختہ کامیابیوں پر مبنی ان بیانات کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید بلکہ استہزاء کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی ماہرینِ دفاع پرَوِن ساھنی اور سدھارتھ وردراجن جیسے معتبر تجزیہ کاروں نے کھل کر کہا کہ بھارتی ایئر چیف کے بیانات محض سیاسی دباؤ کے تحت دیے گئے لگتے ہیں۔ ورندر پاٹھک نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اگر واقعی بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے درجنوں طیارے مار گرائے ہیں تو اس کے تصویری یا سیٹلائٹ شواہد کہاں ہیں؟ حتیٰ کہ بھارتی فوج کے سابق افسر اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل جی ڈی بخشی ، جو جنونی قوم پرستی ،ہندو فسطائیت اور پاکستان سے نفرت کی ہی پہچان رکھتے ہیں، نے بھی اشارہ دیا کہ مودی حکومت جنگی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے "فرضی فتوحات” کی کہانیاں گھڑ رہی ہے۔

دوسری جانب جنگ کے دوران اور بعد ازاں ، پاکستان کی اعتباریت یا credibility مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ اس نے بھارتی جارحیت کے اگلے ہی روز واضح، ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران کے ہمراہ تباہ شدہ بھارتی طیاروں کی تباہی کے مقامات ،ان کی ساخت ، ملبے اور پرزوں کی تصاویر اور دیگر معلومات حتیٰ کہ بھارتی پائلٹس کی آپس میں ہونے والی گھبراہٹ بھری گفتگو کی آڈیو کلپس بھی دنیا کے سامنے رکھیں۔ ان شواہد کو نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ بین الاقوامی اداروں جیسے BBC، CNN، Reuters اور Al Jazeera نے بھی نشر کیا۔ فرانس کی معروف جنگی طیارہ ساز کمپنی ڈسالٹ (Dassault Aviation) جس نے بھارت کو رافیل طیارے فراہم کیے تھے، نے تصدیق کی کہ کم از کم دو رافیل طیارے پاکستانی دفاعی نظام کی زد میں آئے۔ فرانسیسی وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ “رافیل کو غیر متوقع نقصان پہنچا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 جون کو ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ “ہمیں بریف کیا گیا ہے کہ بھارت نے شدید نقصان اٹھایا ہے اور کم از کم سات بھارتی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔” یہ بیان بھارتی میڈیا اور حکومت کے جھوٹے دعوؤں پر ایک کاری ضرب تھا مگر دہلی نے اسے حسبِ روایت “غلط مفہوم” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ حال ہی میں انھوں نے پھر 7 بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر کیا۔

یہی نہیں، بھارت کے اندر سے بھی ان جھوٹے دعوؤں کے خلاف آوازیں اٹھیں۔ نئی دہلی کے بعض اخبارات جیسے The Hindu، The Wire اور Scroll.in نے تفصیلی تحقیقی رپورٹس میں بتایا کہ “آپریشن سندور” کے حوالے سے کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں بلکہ یہ محض ایک “سیاسی افسانہ”ہے جس کا مقصد مودی سرکار کی شرمندگی کو کم کرنا اور عوامی جذبات کو بھڑکانا ہے۔

پاکستانی دفاعی ماہرین نے درست کہا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ٹھوس ثبوت ہوتا تو وہ عالمی برادری میں اسے فخر سے پیش کرتا۔ مگر اس نے نہ کوئی تصویر، نہ ویڈیو اور نہ ہی کوئی انٹیلی جنس دستاویز پیش کی۔ یہی نہیں، بھارتی ایئر چیف کے بیانات کے اندرونی تضاد نے خود بھارتی دفاعی حلقوں کو بھی ششدر کر دیا۔ پہلے پانچ، پھر تیرہ طیارے، اور پھر کمانڈ سینٹرز و ریڈار کی تباہی، یہ سب کچھ بغیر کسی ثبوت کے صرف زبانی کلامی فتوحات کا تسلسل تھا۔ خیالات و خواہشات کو عسکری فتح کی پیکنگ میں پیش کرکے بھارت نے الٹا اپنی جگ ہنسائی میں کئی گنا اضافہ کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور میڈیا نے اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے نئے محاذ کھولنے شروع کیے۔ اکتوبر 2025 کے آغاز میں بھارتی میڈیا نے اچانک ایک نئی مہم شروع کر دی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قندھار کے قریب شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ بھارتی چینلز جیسے Republic TV، Zee News اور Times Now نے بڑے زور شور سے یہ خبر چلائی کہ دونوں ممالک کے درمیان “نئی جنگ چھڑ گئی ہے” اور “دونوں طرف سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔” لیکن جلد ہی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ پاکستانی اور افغان سیکیورٹی ذرائع نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ تمام خبریں جھوٹ، افواہ اور نفسیاتی پروپیگنڈا ہیں۔ نہ قندھار میں کوئی جھڑپ ہوئی اور نہ سرحد پر کوئی غیر معمولی سرگرمی تھی۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان واقعی جھڑپیں ہوئیں بھی مگر اس سے بھارتی جھوٹ سچ میں بدل نہیں جاتا۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی میڈیا کس حد تک جھوٹ اور فریب کو فروغ دے رہا ہے تاکہ اپنی حکومت اور فوج کی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکے۔ بھارت میں “راشٹرواد” کے نام پر اب جھوٹ بولنا حب الوطنی بن چکا ہے۔ مودی حکومت، جو اپنی سیاسی بقا کے لیے مسلسل دشمن تراشنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، نے میڈیا کو اپنی جنگی مشین کا حصہ بنا دیا ہے۔ مگر اب عالمی برادری بھارتی بیانیے کو محض پروپیگنڈا سمجھنے لگی ہےکیونکہ ثبوت ہمیشہ پاکستان کے پاس رہے ہیں اور سچائی ہمیشہ اس کے مؤقف کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مئی کی جنگ نے بھارتی فوجی قیادت کے بلند و بانگ دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بھارتی فضائیہ جسے “علاقے کی سب سے بڑی ایئر فورس” کہا جاتا تھا، عملی میدان میں پاکستان کے مضبوط دفاع اور پیشہ ورانہ برتری کے آگے ایک بار پھرمکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔ “آپریشن سندور” کا شور مچانے والے خود اب اپنے بیانات سے نظریں چرانے لگے ہیں۔

بھارتی ایئر چیف اور ڈی جی ایم او کے مضحکہ خیز دعوے،جنرل دویدی اور کٹیار کی دھمکیاں، مودی حکومت کے جھوٹے بیانیےاور بھارتی میڈیا کی زہریلی مہمات سب اس بات کا اعتراف ہیں کہ بھارت اپنی شکست تسلیم نہیں کر پا رہا۔ پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی واضح برتری حاصل کی۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی “فتح” کے تمام دعوے تاریخ کے کوڑے دان میں جا رہے ہیں جبکہ پاکستان کی کامیابی اور دفاعی صلاحیت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ “آپریشن سندور” دراصل بھارت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک علامتی فتح بن چکا ہے۔ایسی فتح جو صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سچائی، اصول اور عزم کے محاذ پر حاصل کی گئی۔

بھارتی جرنیلوں کی دھمکیوں اور میڈیا کے پروپیگنڈہ سے بھارت کے ہاں جنگ مئی کی شکست کا درد اور حقائق اور جذبات کا تصادم پوری شدت سے دکھائی دیتا ہے۔ اس پر حریت کانفرنس اور پاک فوج کے انتباہی بیانات بروقت اور معقول ہیں جو علاقائی امن کے ممکنہ بگڑنے کی سنگینی کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں سیاسی اہداف، انتخابی تقاضے یا بیانیہ سازی عسکری بیانات کے ساتھ الجھ گئے یا ہم آہنگ ہوگئے ہیں اور یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو انتہاء درجہ تک بڑھا رہی ہے۔ عالمی اداروں اور طاقتور فریقین کا فرض بنتا ہے کہ وہ خود کشی کی ڈگر پہ نکلی بھارتی روش کو روکنے کے سامان کرے۔ تعمیری ثالثی کے راستے تلاش کرے اور سارے نزاع کی بنیادی وجہ مسلہ کشمیر کو حل کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button