ارشد میر
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جانبدارانہ رپورٹنگ پر بھارتی میڈیا پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ گودی میڈیا جموں و کشمیر میں زمینی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلا رہاہے جو ہندوتوا بیانیے کی عکاسی کرتی ہے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو چھپانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔یہ تنقدئ محض ایک وقتی ردعمل نہںر بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اُس باےنارتی کشمکش کا تسلسل ہے جس مںی زمیتح حقائق اور مڈ یا کے پشہ کردہ بامنےہ کے درمارن واضح خلجب نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ علاقہ میں اطلاعاتی جنگ اب محض خبروں تک محدود نہںم رہی بلکہ ایک مکمل نظریاتی اور ساقسی مدےان مں تبدیل ہو چکی ہے جہاں گودی میڈیا کے ذریعہ حقائق کو تشکلی دینے، چھپانے یا بدلنے کی کوششں معمول بن چکی ہںق۔
مقامی انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ بھارتی مڈلیا کا کردار ایک غرک جانبدار نگران کے بجائے ایک پروپگنڈدا آلہ بن کر رہ گاج ہےجس کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توجہ اور تنقدم کو کم کرنا اور خطے مںا انسانی حقوق کی سنگنئ صورتحال کو پردہ پوشی مں رکھنا ہے۔
یہ تنقدی اس تناظر مںک بھی اہم ہے کہ مقبوضہ کشمر مںم گزشتہ کئی برسوں سے اطلاعاتی رسائی پر سخت کنٹرول، صحافتی آزادی پر قدغنںآ اور مقامی مڈ یا پر دباؤ ہے۔ ایسے مںن جب نام نہاد مرکزی دھارے کا بھارتی مڈایا بھی یکطرفہ با نہد اختاآر کرے تو عالمی برادری تک متوازن اور قابلِ اعتماد معلومات پہنچنے کے امکانات مزید محدود ہو جاتے ہںی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا یہ کہنا کہ کشمر سے متعلق اکثر خبریں من گھڑت یا مبالغہ آمزم ہوتی ہںت، دراصل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ معلومات کو ایک خاص سانسی مقصد کے تحت استعمال کاط جا رہا ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مڈ یا صرف معلومات کی ترسلا کا ذریعہ نہںل بلکہ رائے سازی کا ایک طاقتور ہتھالر ہے۔ جب مڈدیا کسی ریاستی باِنےا کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو وہ عوامی شعور کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ پالی ک سازی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ بھارتی ٹی وی چنلز اور صحافوہں کی ایک بڑی تعداد پشہک ورانہ غرپ جانبداری کے بجائے حکومتی موقف کو دہرانے کو ترجحر دے رہی ہے جوپشہر ورانہ صحافت سے کھلاانحراف ہے۔ یہ صورتحال غر جانبداری، تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی، اور متوازن رپورٹنگ جیسے صحافت کے بنایدی اصولوں پر سوالہو نشان کھڑے کرتی ہے۔
دوسری جانب ڈیٹلو حقوق کی تنظمق انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) کی جانب سے بھارتی حکومت کی مجوزہ آئی ٹی قواننر مںا تراممف پر اظہارِ تشویش اس مسئلے کو ایک اور زاویے سے اجاگر کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ترامم نہ صرف آن لائن اظہارِ رائے پر ریاستی اختامرات کو بڑھائںھ گی بلکہ انہںل “ڈیٹلک آمریت” کی سمت ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس خدشے کا اظہار کاو جا رہا ہے کہ ان تراممں کے ذریعے حکومت کو مواد ہٹانے، نگرانی بڑھانے اور صارفنت کی آن لائن سرگرمو ں پر مزید کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جدید دور مں اظہارِ رائے کا بڑا حصہ ڈیٹلب پلٹص فارمز پر منتقل ہو چکا ہے اور اگر ان پلٹد فارمز کو ریاستی کنٹرول کے تحت لایا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف صحافت بلکہ عام شہریوں کی آزادی پر بھی پڑ سکتے ہںٹ۔ IFF کے مطابق مجوزہ ترامم مںد ڈیٹا برقرار رکھنے کے دائرہ کار کو وسعا کرنے اور نگرانی کے اختاارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہںص جس سے نہ صرف صحافی بلکہ عام صارفن بھی حکومتی نگرانی کی زد مںس آ سکتے ہںب، خاص طور پر وہ افراد جو ساےسی یا سماجی موضوعات پر اظہارِ خا ل کرتے ہںر۔
قانونی ماہرین کی رائے بھی اس حوالے سے تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قوانن پہلے ہی کئی معاملات مںت عدالتی نظرثانی کے زیرِ اثر ہںن اور نئی تراممر کے ذریعے ایک ایسا نظام دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو عدالتی نگرانی کو کمزور کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف اختائرات کے توازن کو متاثر کرے گا بلکہ شہری آزادیوں کے تحفظ کے بنامدی اصولوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔یقینی طور پر اسکو ایک اور کلہاڑی بناکر اسے سب سے زیادہ کشمیریوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
اسی طرح معروف صحافوزں اور مبصرین نے بھی خبردار کاے ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو بھارت مں آزاد صحافت کا مستقبل خطرے مںی پڑ سکتا ہے۔ جب ریاستی پالیین، مڈنیا بامنہگ اور قانونی ڈھانچہ ایک ہی سمت مںم کام کرنے لگں تو اختلافِ رائے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے اور ییہ صورتحال جمہوری معاشروں کے لےا ایک بڑا چلنج بنتی ہے۔
مقبوضہ کشمر کے تناظر مںی ان دونوں امور، مڈنیا کی جانبداری اور ڈیٹل پالو تیں کی سختی کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہں دیکھا جا سکتا۔ جب ایک طرف زمیتر حقائق کو مڈلیا کے ذریعے فلٹر کاط جا رہا ہو اور دوسری طرف آن لائن اظہارِ رائے پر کنٹرول بڑھایا جا رہا ہو تو اس کا مجموعی نتجہض معلوماتی آزادی مںل کمی اور یکطرفہ باتنےب کے فروغ کی صورت مںل نکلتا ہے۔ یی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنان عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہں کہ وہ اس صورتحال کا سنجد گی سے نوٹس لے اور حقائق پر مبنی آزاد اور غرہ جانبدار رپورٹنگ کو فروغ دینے مںب کردار ادا کرے۔
یہ حققت تسلم کرنا ضروری ہے کہ مڈویا کیٹ بھی معاشرے کا آئنہر ہوتا ہےلکن اگر آئنہک ہی مسخ ہو جائے تو حققت کا ادراک مشکل ہو جاتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمر جسےا حساس اور متنازع خطے مںئ جہاں انسانی حقوق، سارسی آزادی اور سلامتی کے مسائل پہلے ہی پدنی ہ ہںت، ذمہ دار اور غر۔ جانبدار رپورٹنگ ناگزیر ہے۔ اسی طرح ڈیٹلر دنای مںی آزادیِ اظہار کے تحفظ کے لےا ایسے قواننٹ کی ضرورت ہے جو توازن برقرار رکھںک، نہ کہ اختاررات کو یکطرفہ طور پر مرکوز کریں۔
تشویش ناک امر ہے کہ خود کو دنیا کی مہان جمہوریہ کہلانے والے بھارت میں معلوماتی کنٹرول اور باانارتی غلبہ ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہاہے جہاں حققت اور فریب کے درماےن فرق کرنا مزید مشکل ہو جائے گا اور ییا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔






