یورپی یونین۔بھارت کے درمیان معاہدہ: انسانی حقوق کے قاتل کو عالمی تحفظ دینے کی کوشش؟
برسلز/نئی دلی:
یورپی یونین اوربھارت کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدے کوانسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر کھلا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس معاہدے کو یورپ کی طرف سے بھارتی کی انسانی حقوق کی پامالیوں کی تائید بھی قراردیا جارہا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نیو اسٹریٹجک یورپ-ہند ایجنڈا کے نام سے سامنے آنے والا یہ معاہدہ بھارت کو کشمیری عوام پر ظلم، اقلیتوں پر جبروتشدد اور سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کھلی چھوٹ فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس معاہدے میں آزاد انہ تجارت ، سرمایہ کاری کے تحفظ اور جغرافیائی اشاریوں جیسے ڈیلزشامل ہیںتاہم معاہدے میں انسانی جانوں کی کوئی قدروقیمت نہیں رکھی گئی۔تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت خاص طور پر مقبوضہ کشمیر، آسام، اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اری ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں مسلمانوں، مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں پروحشیانہ مظالم بشمول بلاجواز گرفتاریاں، ہجوم کی طر ف سے تشدد کاسلسلہ جاری ہے اور بھارتی فورسز کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قوانین کے تحت مکمل استنثیٰ حاصل ہے اور اس سب کے باوجود یورپ کا بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدہ عالمی ضمیر کی شکست سے کم نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ معاہدے میں جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارتی ریاستوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین کے اس اقدام سے نہ صرف کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو دھچکا پہنچا ہے بلکہ یورپ کے انسانی حقوق کے دعوے بھی بے نقاب ہو گئے ہیں ۔تجزیہ کاروں نے سوال کیاکہ کیا یورپی یونین اب انسانی حقوق کی بجائے مفادات کی زبان بول رہی ہے ؟ بھارت، پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کو ختم کروانے کے لیے بھی یورپ پر دبائو ڈال رہا ہے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا یورپی یونین بھارت کے ہاتھوں ایک مہرہ بنتی جا رہی ہے؟دنیا مشاہدہ کر رہی ہے کیا یورپ تاریخ کی درست سمت کھڑا ہوگا یا ظلم کے ساتھ دینے والوں میں شامل ہو جائے گا؟






