جموں

کٹھوعہ میں بی جے پی لیڈر کی قیادت میں ہندو انتہاپسندوں کا عیسائی مبلغین پر حملہ

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ضلع کٹھوعہ کے علاقے جوتھانہ میں لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے لیس ہندو انتہاپسندوں نے عیسائی مبلغین پر وحشیانہ حملہ کیا، حملہ آوروں کی قیادت بی جے پی کے مقامی رہنما رویندر سنگھ تھیلا کر رہے تھے جبکہ حملے کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عیسائی مبلغین کا گروپ جس میں 10سے 15افراد شامل تھے، ایک بس میں سفر کر رہا تھا جب حملہ آوروں نے جن میں سے کچھ نقاب پوش تھے، گاڑی کو روک کر اس کے شیشے توڑ دیے۔ حملے کی ویڈیو فوٹیج میںجو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے ،دیکھا جاسکتا ہے کہ حملہ آور بس کے اندر مبلغین پرتشدد کررہے ہیں۔ایک حملہ آور اگلی سیٹ پر بیٹھے مسافر کو مکے اور لاتیں مارتا ہے۔ بی جے پی لیڈر رویندر سنگھ تھیلا نے اس سے قبل کٹھوعہ قصبے میں ایک صحافی پربھی حملہ کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق مبلغین کو مقامی باشندوں نے علاقے میں مدعو کیا تھا۔ تاہم حملہ آوروں نے تشدد کا جواز پیش کرنے کے لئے الزام لگایا کہ وہ مقامی لوگوں کو عیسائی بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ وہ الزام ہے جو ہندو انتہا پسند اقلیتوں کے خلاف تشدد کا جواز پیش کرنے کے لیے اکثر وبیشتر لگاتے رہتے ہیں۔ حملے سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جائے وقوعہ پر پولیس کی موجودگی کے باوجود انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ویڈیومیں حملے کے دوران پولیس اہلکاروں کو خاموشی کے ساتھ کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیاگیا۔کٹھوعہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہتا شرما نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے مجرموں کو پکڑنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ عیسائی مبلغین پر حملہ بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیرمیں مذہبی اقلیتوں کو درپیش شدید مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button