سرینگر میں آزادی کے حق میں پوسٹر لگانے کے الزام پراترپردیش میں کشمیری ڈاکٹر گرفتار

لکھنو: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو سرینگر میں کشمیر کی آزادی کے حق میں پوسٹرلگانے کے الزام پربھارتی ریاست اترپردیش کے شہر سہارنپورمیں گرفتارکیاگیا ہے جووہاں ایک نجی اسپتال میں کام کررہاتھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سہارنپورویوم بنڈل نے بتایا کہ ڈاکٹرعادل احمد کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ہوئی ہے جس میں اسے سرینگر کے متعدد مقامات پر پوسٹرز لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پولیس نے سہارنپور کے حکام اور اسپیشل آپریشن گروپ کے ساتھ مل کر اسے امبالہ روڈ پر واقع اسپتال سے اپنی تحویل میں لے لیا۔عادل احمد کو سہارنپور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جس نے سرینگر پولیس کا ٹرانزٹ ریمانڈ منظور کیا۔ ڈاکٹر کو مزید تفتیش کے لیے مقبوضہ جموں وکشمیرواپس لایا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ سہارنپور میں مقامی انٹیلی جنس یونٹ کو پرائیویٹ اسپتالوں میں کام کرنے والے دیگر کشمیری طبی عملے کے پس منظر کی تصدیق کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یوپی میں عادل احمد اور ضلع اسلام آباد میں دو دیگرافراد کی گرفتاری بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان میں طبی تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری پیشہ ور خاص طور پر ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے کے لئے وسیع کریک ڈائون کا حصہ ہے۔ بھارتی ایجنسیوں کا کہناہے کہ ایسے افرادآزادی پسند جذبات رکھتے ہیںاور وہ کمیونٹی میں دوسرے لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ کارروائی مقبوضہ جموں و کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں میںاختلافی آوازوں کی نگرانی اور اسے دبانے کے لیے دانستہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزعمل طبی برادری کے پورے طبقے کو بدنام کرنے اور لوگوں کی شکایات اور علاقے میں جاری سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔




