مقبوضہ جموں وکشمیرمیں شہریوں کے گرد گھیرا تنگ،چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ تیز

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے گھروں پر چھاپوں اوردیگر جابرانہ کارروائیوں کاسلسلہ تیز کر دیا ہے اورنام نہاد بھارت مخالف عناصرکو نشانہ بنانے کی آڑ میں مقامی باشندوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسزنے ضلع بارہمولہ کے متعدد علاقوں میں چھاپوں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں،لوگوں سے پوچھ گچھ اور نگرانی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ بھارتی فورسز کی یہ کارروائیاں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی نئی دہلی کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ایک سرکاری عہدیدارنے تصدیق کی کہ تازہ ترین کارروائیوں کے دوران بہت سے عام شہریوں کو طلب کرکے گرفتارکیاگیا ہے۔ضلع میں سات نام نہاد اوور گرائونڈ ورکرزکے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور سات افراد کو پوچھ گچھ کے بعد پابند سلاسل کیا گیا۔پولیس غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد سے بھی پوچھ گچھ کررہی ہے اوران میں سے سات کی ضمانت منسوخی کے لئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود شہریوں کو بار بار نشانہ بنانے سے بھارتی حکومت کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قانون کے غلط استعمال کی عکاسی ہوتی ہے۔مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی 29کارروائیاں کی گئیں جس سے ضلع میں نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سخت نگرانی، گھروں کی تلاشی اور بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بھارتی پولیس نے مختلف علاقوں میں متعدد چوکیاں قائم کیں جہاں گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جارہی ہے جبکہ موبائل سم فروشوں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کشمیریوںپر نظر رکھنا،انہیں ڈرانادھمکانا اوران پر نفسیاتی دبا ئوڈالنا ہے۔کشمیری بھارت کے بڑھتے ہوئے جبر کے باوجود حق خودارادیت کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔






