آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان بھارت مباحثہ پاکستانی طلباء نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا

لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والا پاکستان بھارت مباحثہ پاکستانی طلباء نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دونوں ممالک کے آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلباء نے ”پاکستان کیلئے بھارتی پالیسی واقعی قومی سکیورٹی کیلئے ہے یا عوامی جذبات کو بھڑکانے کیلئے سیاسی نعرہ ہے ”کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ سٹوڈنٹس یونین کے موجودہ صدر موسیٰ ہراج نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ بھارتی طلباء مباحثے میں اٹھائے گئے سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ دے پائے۔ ڈیبیٹ ہال میں پاکستانی ٹیم کو 106، بھارتی ٹیم کو صرف 50ووٹ مل پائے۔ یوں پاکستانی طلباء نے مباحثہ دو تہائی اکثریت سے جیت لیا۔اس سے قبل بھارت نے اعلیٰ سطح کے مقررین کے فرار پر دوسرے پینل کو آگے کیا تاہم بھارت کی شکست دیکھ کر پینل نے میدان میں اترنے سے انکار کر دیا۔ عالمی فورم پر نوجوانوں کی کامیابی پاکستان کا کیس مضبوط ہونے کا ثبوت ہے۔ ایک پاکستانی مقرر نے کہا کہ مودی نے 2024 میں انتخابات سے پہلے 173تقاریر کیں جن میں سے 110تقاریر اسلامو فوبیا اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ان کے بیانیے پر تھیں۔ یہ سب ایک منصوبے کا حصہ تھا تاکہ خوف پیدا کرکے ہندو آبادی کو متحدکیا جائے اور اسے اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیاجائے۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہوگیا جس کے بعد پاکستان کو بلامقابلہ فتح حاصل ہوگئی۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد مباحثے میں شرکت کی ہمت نہ کرسکا۔ بھارتی مقررین نے بحث سے راہ فرار اختیارکی۔ بھارتی وفد کی دستبرداری نے بھارتی بیانے کی کمزوری بے نقاب کردی۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کا کہنا ہے کہ بھارتی رہنما صرف ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں۔ علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں۔ میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار غائب ہوگئے۔بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے۔ اعلامیے کے مطابق آکسفورڈ یونین جیسے غیر جانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب ہوگئی۔ بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا۔ مباحثے میں بھارتی وفد کی عدم شرکت ان کے اپنے عوام کے سامنے بھی سوالیہ نشان بن گئی۔






