بھارت :اروناچل پردیش میں ہندو انتہاپسندوں کی مسجد کو مسمار کرنے کی دھمکی

ایٹا نگر:بھارت کی متنازعہ ریاست اروناچل پردیش میں جس کے بارے میں چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے،ہندو انتہاپسندوں نے مسجد کو مسمار کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے مسلمانوں کو” بھارت ماتا کی جے” کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ہندوتوانظریے کی حامل اروناچل پردیش انڈیجینس یوتھ آرگنائزیشن (APIYO)کے رہنمائوں کو مسلمان علما ء سے بدتمیزی کرتے اوردارالحکومت ایٹا نگرمیں ایک مسجد کو منہدم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو نے بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے جس سے شمال مشرقی بھارت خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدارعلاقوں میںمسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم میں تشویشناک اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ویڈیو میں اروناچل پردیش انڈیجینس یوتھ آرگنائزیشن کے صدر تارو سونم لیاک اورجنرل سیکریٹری تاپور مینگ کو ایک مسجد کے مقام پر دیکھا جاسکتا ہے۔ لیاک نے مولانا سے سوالات کررہا ہے اور اسلام اور قرآن پاک کو نشانہ بنارہا ہے۔صورتحال اس وقت بگڑنے لگتی ہے جب لیاک نے مولانا کو ”بھارت ماتا کی جے ”کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔کیا آپ لوگ کہتے ہیں بھارت ماتا کی جے؟ اگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے تو آپ سچے بھارتی کیسے ہو سکتے ہیں؟یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ہندوتوا تنظیم کی ایک ماہ طویل مہم کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں نے 17نومبر کو جامع مسجد کو مسمار کرنے کے لیے پانچ دن کا الٹی میٹم دیا اور دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ تحریک شروع کریں گے۔ اس کے بعد 24نومبر کو 12گھنٹے کی ہڑتال کی کال موخر کر دی گئی، لیکن تنظیم نے ہفتہ وار بازاروں میں مسلمانوںپر پابندی لگانے اور مسجد کو مسمار کرنے کا مطالبہ دہرایا۔







