خصوصی دن

مظلوم کشمیری بدترین بھارتی غلامی کا شکار

اسلام آباد:  آج جب دنیا بھر”غلامی کے خاتمے ”کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، بھارت نے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو مسلسل غلام بنا رکھا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے اس دن کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی تسلط کے تحت لاکھو ں کشمیری مسلسل غلامی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت جموں وکشمیر کے بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں اپنے فوجی اور ہندوتوا ایجنڈے کو مضبوط کر رہا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ غلاموں اور دشمن دونوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کو 1846 سے1947تک ڈوگرہ راج کے تحت جبری مشقت اور بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور1947کے بعد بھی ان پر وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔ رپورٹ میں دعوی ٰکیا گیا ہے کہ اگست2019میں دفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کے بعدسے مقبوضہ علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے اور کشمیریوں کو اب ظالمانہ قوانین کے تحت مناسب معاوضے یا بنیادی سہولتوںکے بغیر بی جے پی حکومت اور قابض فوج کیلئے کام کرنے پر مجبور کیاجارہاہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج،پیراملٹری اور پولیس اہلکاربدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اور ایس آئی اے کی جابرانہ کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ قابض فورسز مقامی معیشت اور زراعت کے شعبے کی ترقی اورآزادانہ سیاسی سرگرمیوں میںبڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری بڑے پیمانے پر غربت، مایوسی اور خوف ودہشت کا شکار ہیں ۔ رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان،مرد ، خواتین اور بچے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار ہیں ۔مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے کشمیریوں کی غلامی کا واضح ثبوت ہیں ۔ان کارروائیوں کے دوران کشمیری خواتین کاجنسی استحصال بھی غلامی کاایک افسوسناک پہلوہے۔رپورٹ میں نیشنل کانفرنس کے رہنمائوں بشمول وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات کا حوالہ دیاگیا ہے ،جنہوں نے مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کے توازن پر افسوس کااظہا ر کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ علاقے میں منتخب عوامی حکومت بے اختیار اور تمام تر اختیارات بھارت کے مقرر کر دہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن چودھری محمد رمضان نے بھی واضح طورپر کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں نیشنل کانفرنس کی حکومت مکمل طورپر بے اختیار ہے اور حقیقی طاقت لیفٹیننٹ گورنر کوحاصل ہے ۔وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اختیارات کے دوہرے مراکز پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے منتخب حکومت سے اس کے تمام تراختیارت چھین لئے ہیں اورمقبوضہ علاقے کا تمام تر انتظام گورنر ہائوس کے ذریعے چلایاجارہاہے ۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے پھیلائے گئے خو ف و دہشت کے ماحول پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ علاقے میں جدید دور کی غلامی ختم کرنے پر مجبور کرے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے ۔ بھارتی فوجی کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جرائم میں ملوث ہیں اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے والے کشمیریوں کوبدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ حریت ترجمان نے گزشتہ روز ایک ہندو طالب علم کی توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کرنے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتوا بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر مقبوضہ کشمیر کو اس کے عوام کیلئے ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنااہم کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button