گودی میڈیا بنگلہ دیشی معیشت میں عارضی سست روی پر جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہاہے
ڈھاکہ:
بھارت میں مودی حکومت کے گودی میڈیا نے محمد یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیش کی معاشی تنزلی کے حوالے سے پرپیگنڈہ مہم شروع کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گودی میڈیا بنگلہ دیش کی معیشت میں عارضی سست روی پر جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہاہے تاکہ اسے دنیا بھر میں بنگلہ دیش میں غربت کے بڑھتے ہوئے بحران کے طورپرپیش کیا جاسکے ۔ بھارتی میڈیا بھارت نواز شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں برسوں سے جاری معاشی بدانتظامی اور مالی خطرات کی مسلسل پردہ پوشی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قلیل المدتی معاشی سست روی دراصل مالی اصلاحات کا نتیجہ ہیں ۔ بنگلہ دیش کی جی ڈی پی میں 2020میں 3.5فیصد، 2021میں 6.9فیصد اور 2022میں 7.1فیصد کااضافہ ہواتھا، لیکن شیخ حسینہ واجد نے طلباء کے ملک گیر احتجاج کے بعد اقتدار سے علیحدگی اور بھارت فرار ہونے سے قبل ملکی معیشت پر پوشیدہ قرضوں اوردیگر مالی ذمہ داریوں کا شدید بوجھ چھوڑا تھا ۔بنگلہ دیش کے غیر فعال قرضوں میں اچانک 20 سے 35 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ، جس سے محمد یونس کی عبوری حکومت کی معاشی اصلاحات اور شفافیت سے متعلق اقدمات کی عکاسی ہوتی ہے ،جو نئی اقتصادی مشکلات کے بجائے پہلے معیشت کو لاحق دیرینہ مسائل اور مالی خطرات سے عوا کو آگاہ کر رہی ہے ۔ایک مقامی ماہر معاشیات کے مطابق برسوں تک شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے معاشی اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کی، بینکنگ کے قوانین میں نرمی اور معاشی ترقی کی غلط تصویر پیش کرنے کیلئے قرضوں کی ادائیگی کو ری شیڈول کیا ۔ بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت کے دور میں اخراجات میں کمی اور قرضوں کی ادائیگی میں بہتری آئی ہے ۔






