اسلام آباد:بنگلہ دیش کی فوج کے پاکستان کے ساتھ اعلی سطحی دفاعی تبادلے، مشترکہ تربیتی مشقیں اور تکنیکی تعاون دونوں ملکوں کے درمیان موجود تاریخی رشتوں کومضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔ میجر جنرل مسعودر رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش کی فوج کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پہلی اسٹاف بات چیت کیلئے کل 3تا 7نومبر تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔یہ دورہ ڈھاکہ کی متنوع سیکیورٹی شراکت داری ، اسٹریٹیجک خود مختاری، بھارتی اثر میں کمی اور خطے میں کثیر سمتی سفارت کاری و متوازن دفاعی تعلقات کی جانب وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
میجر جنرل محمد مسعودر رحمان کے ہمراہ ایڈجیوٹنٹ جنرل، ایک لیفٹیننٹ کرنل اور دو میجر شامل ہوں گے۔ انکا یہ دورہ پاک فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کے 24 سے 28 اکتوبر کے دورہ ڈھاکہ کا تسلسل ہے۔قبل ازیں لیفٹیننٹ جنرل حسن وہ پہلے اور سینئر ترین بنگلہ دیشی افسر تھے جنہوں نے رواں برس 11 جنوری کو راولپنڈی کا دورہ کیا۔بعد ازاں پاک فوج کے کم از کم تین وفود بنگلہ دیش کا دورہ کر چکے ہیں۔بنگلہ دیشی دفاعی ادارے پاکستانی فوج کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے ملک کی سیکیورٹی پالیسی بھارتی اثر سے نکل کر آزاد سمت میں جاتی نظر آرہی ہے۔یہ اقدامات ظاہر کررہے ہیں کہ دونوں ممالک صرف تاریخی ثقافی و مذہبی رشتوں پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ اسے اسٹریٹیجک مفادات میں ڈھال رہے ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کی اس پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جس کا مقصد پاکستان کو خطے میں تنہا اور غیر اہم ثابت کرنا تھا۔
پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کی نئی دفاعی سفارت کاری کثیر الجہتی خارجہ پالیسی، مضبوط خودمختاری اور متوازن علاقائی تعلقات کی طرف تبدیلی کی علامت ہے۔دونوں ملکوں کے مابین بڑھتا ہوا عسکری تعلق اس بات کا بھی غماز ہے کہ جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن ایک نئی کروٹ لے رہا ہے اور بھارت کی روایتی بالادستی اور نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ سمیت دیگر ریاستوں پر اسکا اثر ورسوخ دم توڑ رہا ہے ۔ بنگلہ دیش کا پاکستان کی طرف جھکاو¿ خطے کے سٹریجٹک نقشے میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ تبدیلی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی ایک نئی جہت کی طرف اشارہ ہے اور ماضی کی تلخیوں سے نکل کر حقیقت پسندی، خود مختاری اور علاقائی تعاون پر مبنی سفارت کاری کا آغاز بھی ہے۔







